سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب — Page 388
۔دین کی سمجھ کا دعویٰ بھی صرف لاف وگزاف ہے کیونکہ ہر جنگ کے وقت انہوں نے پیٹھ دکھائی ہے۔یہ وہ جاہل ہیں جو عربی زبان سے ناواقف ہیں نیز قرآن اور اُس کے باریک بھیدوں سے بھی۔جب ان کا تکبر اپنے کمال کو پہنچ گیا تو خدا کی غیرت نے اُن کے پردے پھاڑ دئیے۔شمرِنا بکار کی طرح یہ لوگ دین کے دشمن ہیں اور دین زین العابدین کی طرح بیمار اور کمزور ہے۔میرا بدن کانپ جاتا ہے اور جان ودل لرز جاتے ہیں جب میں ان کی خیانتیں دیکھتا ہوں۔انہوں نے بہت مکر کئے اور اب بھی کر رہے ہیں تا کہ ہمارے کام کے نظام کو درہم برہم کر دیں۔لیکن وہ بات جو آسمان کی طرف سے ہے اس پر حاسدوں کے حسد سے کیونکر زوال آسکتا ہے۔میں کیا چیز ہوں ان کی لڑائی تو اس خدا کے ساتھ ہے جس کے دونوں ہاتھوں سے یہ باغ اور یہ محل تیار ہوا ہے۔جو شخص خدائی کاروبار میں دخل انداز ہوتا ہے وہ دراصل خدا سے جنگ کرنے کھڑا ہوتا ہے۔ہم تو فانی لوگ ہیں اور ہمارا تیر خدا کا تیر ہے اور ہمارا شکار دراصل خدا کا شکار ہے۔صادق تو اُس یکتا کی پناہ میں ہوتا ہے اور خدا کا ہاتھ اُس کی آستین میں چھپا ہوا ہوتا ہے۔جو شخص دشمنی کی وجہ سے خدا کے ساتھ لڑتا ہے وہ شیطان لعین کی طرح اپنی ہی جڑ اکھیڑتا ہے۔بہت سے لوگ بلعم کی طرح ہیں جن کا کام موسیٰ کے ہاتھوں تہس نہس ہو جاتا ہے۔میں ابر بہار کی طرح وقت پر آیا ہوں اور میرے ساتھ خدا کی مہربانیوں کے سینکڑوں نشانات ہیں۔آسمان میرے لیے نشان برساتا ہے اور زمین بھی ہر دم یہی کہتی ہے کہ وقت یہی ہے۔میری تائید میں یہ دو گواہ کھڑے ہیں پھر بھی یہ بیوقوف میرے پیچھے پڑے ہوئے ہیں صفحہ ۹۹۔ہائے افسوس یہ لوگ عجب طرح کے اندھے اور بہرے ہیں سینکڑوں نشان دیکھتے ہیں پھر بھی غافل گزر جاتے ہیں۔یہ اس قدر کیوں اونچے اڑتے ہیں (یعنی اتنے متکبر کیوں ہیں ) شاید اُس بے مثل ذات کے منکر ہیں۔وہ خدا تو جب کسی پر مہربانی کرتا ہے تو اُسے زمینی سے آسمانی بنا دیتا ہے۔اپنے فضل، لُطف اور کرم سے اُسے عزت بخشتا ہے سورج اور چاند کو اس کے سامنے سجدہ میں گراتا ہے