سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 387 of 494

سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب — Page 387

۔میں تو وہ ہوں کہ اُس سردار کی راہ میں ُتو میرا سر خاک اور خون میں لتھڑا ہوا دیکھے گا۔اگر اُس محبوب کی گلی میں تلوار چلے تو میں وہ پہلا شخص ہوں گا جو اپنی جان قربان کرے گا۔اگر دشمن کے نزدیک یہی کفر ہے تو وہ بڑا خوش نصیب ہے جو میری طرح کا کافر ہے۔ان لوگوں نے مجھے کافر دجال اور لعنتی کہا۔میں نہیں جانتا کہ یہ کونسا دین وایمان ہے۔ان کی یہ طبیعتیں پتھر کی طرح سخت ہیں۔ان کے پہلو میں اگر دل ہے۔تو دکھاؤ وہ کہاں ہے۔ان لوگوں کا کام ہر وقت افترا پردازی ہے اور حرص وہوا ہر دم ان کی رفیق ہے۔ان کے دل خباثتوں سے پُر ہیں اور ان کے باطن شراشرتوں سے۔نیک نیتی ان سے بہت دور ہے۔جب دل میں نیک نیتی ہوتی ہے تو وہ صدق کے پھول پر بلبل کی طرح گرتا ہے۔اور شرارتوں پر کمر نہیں باندھتا۔وہ پوشیدہ بھیدوں کے جاننے والے سے ڈرتا ہے۔لیکن یہ بے باکی اور بے شرمی اور افترا پر افترا۔یہ ایمانداروں اور پرہیزگاروں کا کام نہیں ہے۔نہ یہ پاک دل بزرگوں کی خصلت ہے۔وہ جو ہر وقت اپنی خواہشوں کا غلام ہے میں کیونکر جانوں کہ وہ خدا سے ڈرتا ہے۔انہوں نے اپنے تئیں نیک خیال کر رکھا ہے۔افسوس ان لوگوں نے کیسا غلط سمجھا ہے۔نفس کی پیروی اور خدا سے روگردانی بس یہی بدبختوں کی نشانی ہے صفحہ ۹۸۔جس کے دل میں اس طرح کی گندگی ہے اگر اُس میں ایمان کی بو بھی ہو تو پھر میں کافر ہوں۔میں نے ان لوگوں کے سامنے وہ کتاب پڑھی جو ریب اور شک سے پاک ہے (یعنی قرآن)۔نیز اس رسول کی حدیثیں بھی پیش کیں جو بفضل خدا راستباز ہے اور لغوگوئی سے پاک ہے۔لیکن ان کا ارادہ ہی حق قبول کرنے کا نہ تھا بھیڑیے کے آگے بھیڑ کا رونا فضول ہے۔انہوں نے مجھے کافر کہا اور منہ پھیر لیا اور یقین کر لیا کہ گویا انہوں نے میرا دل چیر کر دیکھ لیا ہے۔انہی کے بارے میں اُس شاہِ دین نے کیا خوب فرمایا ہے کہ یہ لوگ دل کے کافر ہیں اور ظاہر کے مومن۔ان کی زبان پر قرآن ہے مگر ان کے سینوں میں دنیا کی محبت۔تکبر اور عداوتیں ہیں