سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب — Page 386
۔یہ سب اندھے جو میری تکفیر کر رہے ہیں۔یقیناً قرآن کے نور سے بے خبر ہیں۔اور اس کلام کے اسرار سے ناواقف ہیں۔بیہودہ گو۔ناقص اور خام ہیں۔اُن کے ہاتھ میں ہڈی سے بڑھ کر کچھ نہیں اور اُن کے سر میں دور اندیش عقل نہیں ہے۔وہ خود ُمردہ ہیں اور اُن کا فہم بھی ُمردار ہے۔وہ عشق اور معشوق دونوں سے محروم ہیں۔الغرض قرآن ہمارے دین کی بنیاد ہے وہ ہمارے غمگین دل کو تسلی دینے والا ہے۔فرقان کا نور خدا کی طرف کھینچتا ہے اس سے خدا کا چہرہ دیکھ سکتے ہیں۔ہم اُس معشوق سے اپنی آنکھیں کیونکر بند کر سکتے ہیں اس کے چہرہ جیسا خوبصورت اور کوئی چہرہ کہاں ہے۔میرا منہ اُس کے منہ کے نور کی وجہ سے چمک اٹھا میرے دل نے جو کچھ بھی پایا اسی کے فیض سے پایا۔جس قدر میری آنکھیں اُس کے حسن کو جانتی ہیں کوئی نہیں جانتا۔میری جان کمالات کے اس سورج پر قربان ہے۔ایسا ہی عشق مجھے مصطفی کی ذات سے ہے میرا دل ایک پرندہ کی طرح مصطفی کی طرف اڑ کر جاتا ہے۔جب سے مجھے اس کے حسن کی خبر دی گئی ہے میرا دل اس کے عشق میں بے قرار رہتا ہے صفحہ ۹۷۔میں اُس دلبر کا چہرہ دیکھ رہا ہوں اگر کوئی اُسے دل دے تو میں اُس کے مقابلہ پر جان نثار کردوں۔وہی روح پرور شخص تو میرا ساقی ہے جو ہمیشہ جامِ شراب سے مجھے سرشار رکھتا ہے۔یہ میرا چہرہ اس کے چہرہ میں محو اور گم ہو گیا اور میرے مکان اور کوچہ سے اُسی کی خوشبو آرہی ہے۔از بسکہ میں اُس کے عشق میں غائب ہوں۔میں وہی ہوں۔میں وہی ہوں۔میں وہی ہوں۔میری روح اس کی روح سے غذا حاصل کرتی ہے اور میرے گریباں سے وہی سورج نکل آیا ہے۔احمد کی جان کے اندر احمد ظاہر ہو گیا اس لئے میرا وہی نام ہو گیا جو اُس لاثانی انسان کا نام ہے۔اُس کے عشق میں مَیں عزت وجاہ سے مستغنی ہو گیا۔دل ہاتھ سے جاتا رہا اور سر سے ٹوپی گر پڑی۔مجھ پر یہ افترا کہ میں اُس درگاہ سے روگرداں ہوں۔فاسق لوگوں کا یہ کتنا بڑا جھوٹ ہے۔کیا میرے جیسا شخص اپنے اُس چاند سے منہ پھیر سکتا ہے؟ دشمن کے اس خیال پر خدا کی لعنت ہو