سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب — Page 381
صفحہ ۹۲تا ۹۴ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ بخدمت حضرت مخدوم و مکرم الشیخ الجلیل الشریف السعید حبیّفی اللہ غلام فرید صاحب کان اللہ معہ و رضی عنہ و ارضاہ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ اما بعدنامہ نامی و صحیفہ گرامی افتخار پہنچا جو گو ناگوں مسرت کا باعث ہوا۔بتقاضائے آیت کریمہ (کہ یقینا میں یوسف کی خوشبو پاتا ہوں خواہ تم مجھے مجنون ہی قرار دو)کئی ہزا ر علماء و صلحاء میں سے آنمخدوم کے کلمات طیبات سے مجھے آشنائی کی خوشبو آئی ہے۔خدا کا شکر ہے کہ یہ سرزمیں ایسے مردانِ حق سے خالی نہیں جو کلمہ حق کے اظہار میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے۔اور اللہ تعالیٰ سے نور اور حضرت عزت سے دانائی رکھتے ہیں۔پس ان کی پاک فطرت صحیحہ ان کو حق کی طرف کھینچے رکھتی ہے اور اثبات حق میں روح القدس ان کی تائید فرماتی ہے۔فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ ثُمَّ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہ ان امور کا مصداق ہم نے آنمخدوم کو پایا ہے۔اے برادر مکرم مشائخ وقت کا اس عاجز کی طرف رجوع بہت کم ہے۔اور ہر طرف فتنے برپا ہیں۔اس سے قبل حبّی فی اللّٰہ حاجی منشی احمد جان صاحب لدھیانوی کہ جو کتاب طبِ روحانی کے مؤ لف ہیں نے بکمال محبت و اخلاص اس عاجز سے مریدی کا تعلق قائم کر لیا ہے اور بعض نا اہل مریدوں نے ان کے بارے میں طرح طرح کی باتیں بنائیں کہ اتنی بڑی بزرگی اور شہرت رکھنے والا کہاں جا پڑا۔جب ان کی ان باتوں کی اُن (حضرت منشی احمدجان) کو اطلاع ہوئی تو آپ نے اپنے معتقدوں کو ایک مجلس میں اکٹھا کیا اور فرمایا کہ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے وہ چیز (حقیقت) دیکھی ہے جو تم نہیں دیکھتے ہو۔پس اگر آپ مجھ سے قطع تعلق چاہتے ہو تو بہت اچھا۔مجھے خود ان تعلقات کی پرواہ نہیں ہے۔اُن کی ان باتوں سے بعض اہلِ دل مرید رو پڑے۔اور ایسااخلاص پیدا کیا جو اس سے پہلے وہ نہ رکھتے تھے اور مجھ سے ملاقات کے وقت بتایا کہ میرے ساتھ یہ عجیب معاملہ پیش آیا ہے کہ میں نے پختہ ارادہ کیا تھا کہ اگر وہ مجھ کو چھوڑتے ہیں تو میں بھی ان کو ترک کر دوں گا۔لیکن معاملہ اس کے برعکس ظاہر ہوا کہ انہوں نے قسم کھائی کہ اب وہ ایسی خدمات کے ساتھ آئیں گے کہ اس سے پہلے جن کا نشان نہیں تھا۔اس بزرگ مرحوم