سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب — Page 380
تک ہو سکتا ہے اپنے آپ کو بے فائدہ نزاع کے طوفان میں داخل ہونے سے بچاتا ہے اور چونکہ اکثر لوگوں کو حرص و ہوا کی موافقت نے طلب ِحق سے دور رکھا ہوا ہے اور تعصب نے تحقیق کے راستوں پر جہالت کی خاک ڈالی ہوئی ہے اس لئے باتوں کی حقیقت تک پہنچے بغیر اور کاموں کے انجام کو دیکھے بغیر شوروغل مچاتے ہیں اور اسی جہالت کے غبار کو جو دشمنی کی ہوس سے اٹھائے ہوئے ہیں اپنے سرپر ڈالتے ہیں۔ورنہ اعمال کا ثمرہ صحیح نیت پر موقوف ہے اور کنایات اپنی دلالت میں تصریح سے بڑھ کر رسا ہیں۔یہ بات مخفی نہ رہے کہ آج کل کچھ علماء وقت نے مجھ سے جواب طلبی کی ہے کہ کیوں ایک ایسے شخص کو (یعنی آنجناب کو) جو باتفاق علماء ایسا ویسا ثابت ہو چکا ہے نیک مرد قرار دیتے ہیں اور کس وجہ سے ان کے ساتھ حسن ظنی رکھتے ہیں کیونکہ ان کی تحریر کامل جوش سے بھری ہوئی تھی اور ان کے الفاظ کی ترکیب اپنے اندر بجلی جیسی تڑپ رکھتی تھی مگر اس خیال سے کہ ان کے مضامین ان کے دلوں کے گواہ ہیں اور ہر شخص کی نیت خدا تعالیٰ بہتر جانتا ہے اور کسی شخص پر بدگمانی کرنا نیک آدمیوں کا طریق نہیں۔اور بغیر تحقیق کے کسی کو منافق یا نفس کا مطیع جاننا مناسب نہیں۔اس فقیر پر ان کے طریق پر بدگمانی گراں گزرتی ہے کیونکہ اگر وہ نیک نیت رکھتے ہیں تو ان کی غلطی خطا فی الاجتہاد سے مشابہ ہو گی ورنہ حقیقت یہ ہے کہ میرے محبت نیوش کان جوں جوں آنمکرم کی مساعی سے آگاہی کے ذخیرہ سے بہرہ مند ہوتے ہیں میرا محبت شعار دل اس اخلاص میں اور بھی بڑھ گیا ہے کہ جو پہلے رکھتا تھا۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ کوئی سبب بہتر پیدا ہو جائے اور مبارک گھڑی ظاہر ہو جائے کہ جس سے جسمانی دوری کا پردہ اور فاصلہ کی لمبائی کا نقاب درمیان سے اُٹھ جائے اور اگر آپ وہ مضمون جو جلسۂ مذاہب میں پیش فرمایا تھا میرے پاس بھیج کر مسرور کریں تو احسان ہو گا۔والسلام مع اکرام فضائل اور کمالات کے مراتب رکھنے والے مولوی نور الدین صاحب و صاحبزادہ سراج الحق صاحب بھی سلام شوق مطالعہ فرمائیں۔الراقم فقیر غلام فرید چشتی نظامی ازمقام چاچڑاں شریف مہر ۲۷؍ ماہ شعبان المعظم ۱۳۱۴ہجریہ نبویہ