سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب — Page 377
ترجمہ فارسی عبارات صفحہ ۳۔اے قوم خدائے قادر کے نشانات دیکھ آنکھ کھول کہ تیری آنکھ کے سامنے ایک عظیم الشان نشان ہے۔اُس کی طرف اپنا رخ کر کہ اگر وہ قبول کر لے تو منہ چمک اٹھے گا ورنہ یہ روئے سیاہ سؤر سے بھی بدتر ہے۔تو زمین وآسمان کے بادشاہ سے کیوں منہ پھیرتا ہے اگر اس کا غضب تجھے پکڑ لے تو کون تجھے پناہ اور مدد دے سکتا ہے۔چاند سورج زمین وآسمان آگ اور پانی سب اس عزت والے دوست کے قبضہ میں قیدی ہیں۔سب فرشتے اس کی ہیبت سے لرزتے ہیں انبیاء کی جان اور دل خون ہے اور خوف دامنگیر ہے۔جنت اور جلانے والا دو زخ اُس کے خوف سے کانپتے ہیں اے ناچیز کیڑے تیری ہستی ہی کیا ہے اور تیری منزلت ہی کیا ہے۔تو خدا تعالیٰ سے کب تک یہ جنگ وجدل کرتا رہے گا۔توبہ کر توبہ تا کہ وہ تیری خطائیں معاف کر دے۔میں اگر یار کی نظر میں کوئی درجہ رکھتا ہوں تو تیری بدگوئی اور تکفیر سے مجھے کیا نقصان پہنچ سکتا ہے۔لعنت وہ ہوتی ہے جو خدا کی طرف سے نازل ہو بداصل لوگوں کی لعنت محض بیہودہ شور ہے۔اے بھائی دین کا راستہ بہت مشکل راستہ ہے۔خاک ہو جا خاک تا کہ پھر تجھے اکسیر بنا دیں۔اگر تو تکبر سے روگردانی کرے گا تو ہلاک ہو جائے گا میں اس کے پاس سے آیا ہوں اور بطور نذیر تجھے سمجھاتا ہوں۔وہ خدا جس سے مخلوق اور لوگ بے خبر ہیں اس نے مجھ پر تجلی کی ہے اگر تو عقلمند ہے تو مجھے قبول کر صفحہ ۱۴۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان میں ایک عجیب نور ہے محمدؐ کی کان میں ایک عجیب وغریب لعل ہے۔دل اُس وقت ظلمتوں سے پاک ہوتا ہے جب وہ محمدؐ کے دوستوں میں داخل ہو جاتا ہے۔میں اُن نالایقوں کے دلوں پر تعجب کرتا ہوں جو محمدؐ کے دستر خوان سے منہ پھیرتے ہیں