سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 376 of 494

سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب — Page 376

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۳۷۴ سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب ۴۸ لیکن روحانی آرام جو خدا کے وصال سے ملتا ہے اس کے بارے میں تو میں خدا کی دُہائی دے کر کہتا ہوں کہ یہ قوم اس سے بالکل بے نصیب ہے۔ ان کی آنکھوں پر پردے اور ان کے دل مردہ اور تاریکی میں پڑے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ بچے خدا سے بالکل غافل ہیں۔ اور ایک عاجز انسان کو جو ہستی از لی کے آگے کچھ بھی نہیں ناحق خدا بنا رکھا ہے۔ ان میں برکات نہیں۔ ان میں دل کی روشنی نہیں۔ ان کو سچے خدا کی محبت نہیں بلکہ اس سچے خدا کی معرفت بھی نہیں ۔ ان میں کوئی بھی نہیں ہاں ایک بھی نہیں جس میں ایمان کی نشانیاں پائی جاتی ہوں ۔ اگر ایمان کوئی واقعی برکت ہے تو بے شک اس کی نشانیاں ہونی چاہئیں مگر کہاں ہے کوئی ایسا عیسائی جس میں یسوع کی بیان کردہ نشانیاں پائی جاتی ہوں ؟ پس یا تو انجیل جھوٹی ہے اور یا عیسائی جھوٹے ہیں۔ دیکھو قرآن کریم نے جو نشا نیاں ایمانداروں کی بیان فرمائیں وہ ہر زمانہ میں پائی گئی ہیں۔ قرآن شریف فرماتا ہے کہ ایماندار کو الہام ملتا ہے۔ ایماندارخدا کی آواز سنتا ہے۔ ایماندار کی دعائیں سب سے زیادہ قبول ہوتی ہیں۔ ایماندار پر غیب کی خبریں ظاہر کی جاتی ہیں۔ ایماندار کے شامل حال آسمانی تائید میں ہوتی ہیں ۔ سوجیسا کہ پہلے زمانوں میں یہ نشانیاں پائی جاتی تھیں اب بھی بدستور پائی جاتی ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن خدا کا پاک کلام ہے اور قرآن کے وعدے خدا کے وعدے ہیں۔ اٹھو عیسائیو! اگر کچھ طاقت ہے تو مجھ سے مقابلہ کرو اگر میں جھوٹا ہوں تو مجھے بیشک ذبح کر دو ورنہ آپ لوگ خدا کے الزام کے نیچے ہیں ۔ اور جہنم کی آگ پر آپ لوگوں کا قدم ہے۔والسلام علی من اتبع الهدى۔ رَّاق میرزاغلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور ۲۲۰ جون ۱۸۹۷ء