سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب — Page 374
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۳۷۲ سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب سوال۔ ۴۔ مسیح نے اپنی نسبت یہ کلمات کہے۔ ”میرے پاس آؤ تم جو تھکے اور ماندے ہو کہ میں تمہیں آرام دوں گا“۔ اور یہ کہ ”میں روشنی ہوں اور میں راہ ہوں ۔ میں زندگی اور راستی ہوں۔ کیا بانی اسلام نے یہ کلمات یا ایسے کلمات کسی جگہ اپنی طرف منسوب کئے ہیں۔ الجواب۔ قرآن شریف میں صاف فرمایا گیا ہے قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُخبكُمُ الله الخ یعنی ان کو کہہ دے کہ اگر خدا سے محبت رکھتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو تا خدا بھی تم سے محبت کرے اور تمہارے گناہ بخشے ۔ یہ وعدہ کہ میری پیروی سے انسان خدا کا پیارا بن جاتا ہے مسیح کے گذشتہ اقوال پر غالب ہے کیونکہ اس سے بڑھ کر کوئی مقام نہیں کہ انسان خدا کا پیارا ہو جائے ۔ پس جس کی راہ پر چلنا انسان کو محبوب الہی بنا دیتا ہے۔ اس سے زیادہ کس کا حق ہے کہ اپنے تئیں روشنی کے نام سے موسوم کرے۔ اسی لئے اللہ جل شانہ نے قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نور رکھا ہے جیسا کہ فرماتا ہے قَدْ جَاءَكُمْ مِنَ اللَّهِ نُورُ یعنی تمہارے پاس خدا کا نور آیا ہے ۔ اور یہ جملہ کہ تم جو تھکے اور ماندے ہو میرے پاس آ جاؤ میں تمہیں آرام دوں گا یہ کیسا لغو معلوم ہوتا ہے ۔ اگر آرام سے مراد دنیا کا آرام اور بے قیدی ہے تب تو یہ فقرہ بلا شبہ صحیح ہے کیونکہ مسلمان جب مسلمان ہوتا ہے تو اس کو پانچ وقت نماز پڑھنی پڑتی ہے ۔ علی الصباح سورج سے پہلے صبح کی نماز کے لئے اٹھنا پڑتا ہے اور پانی سے گو موسم سرما میں کیسا ہی پانی ٹھنڈا ہو وضو کرنا پڑتا ہے اور پھر پانچ وقت مسجد کی طرف نماز جماعت کے لئے دوڑنا پڑتا ہے اور پھر قریباً ایک پہر رات باقی رہتے خواب شیریں سے اٹھ کر تہجد کی نماز پڑھنی پڑتی ہے آل عمران: ۳۲ المآئدة: ١٦