سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب — Page 373
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۳۷۱ سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب یسوع نے باوجود یکہ ایک عورت کے نالہ و فریاد کرنے کی آواز سنی اور اس کی عاجزانہ (۴۵) درخواست اس تک پہنچی تو پھر بھی یسوع نے اس پر رحم نہ کیا اور کہا کہ میں صرف بنی اسرائیل کے لئے بھیجا گیا ہوں ۔ پس جبکہ یسوع نے خود دوسروں کے لئے جو بنی اسرائیل سے خارج تھے رحم اور ہمدردی میں کوئی عملی نمونہ نہ دکھلایا تو کیوں کر امید کی جائے کہ یسوع کی تعلیم میں دوسری قوموں پر رحم کرنے کا حکم ہے۔ یسوع نے تو صاف کہہ دیا کہ میں دوسری قوموں کے لئے بھیجا ہی نہیں گیا ۔ تو اب ہم کیا امید رکھ سکتے ہیں کہ یسوع کی تعلیم میں غیر قوموں پر رحم کرنے کے لئے کچھ ہدایتیں ہیں۔ نہیں بلکہ یسوع کی تعلیم کا رُخ صرف یہودیوں کی طرف ہے۔ اور یسوع خود اپنے تئیں اس بات کا مجاز نہیں سمجھتا کہ دوسری قوموں کی نسبت کچھ ہدایتیں بیان فرمائے ۔ پھر وہ کیوں کر عام طور پر رحم کی تعلیم دے سکتا تھا اور اگر انجیل میں یسوع کے اس کلمہ کے مخالف کہ میری تعلیم اور ہمدردی یہود تک محدود ہے کوئی اور کلمہ لکھا بھی گیا ہو تو بلا شبہ وہ کلمہ الحاقی ہوگا کیونکہ تناقض جائز نہیں ۔ اسی طرح توریت کے پیش نظر بھی صرف یہودی تھے اور توریت کی تعلیم کا بھی تمام پرواز یہودیوں کے سروں تک ہے لیکن وہ قانون جو عام عدل اور احسان اور ہمدردی کے لئے دنیا میں آیا۔ وہ صرف قرآن ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمْ جَمِيْعًا یعنی کہ اے لوگو میں تم سب کی طرف رسول کر کے بھیجا گیا ہوں۔ اور پھر فرمایا: وَمَا أَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ " یعنی ہم نے تمام عالموں پر رحمت کرنے کے لئے تجھے بھیجا ہے ۔ الاعراف: ۱۵۹ الانبياء: ١٠٨