سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 372 of 494

سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب — Page 372

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۳۷۰ سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب ۲۴ اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ تم بنی نوع سے ایسی ہمدردی بجالاؤ جیسا کہ ایک قریبی کو اپنے قریبی کے ساتھ ہوتی ہے۔ اب سوچنا چاہیے کہ اس سے زیادہ دنیا میں اور کون سی اعلیٰ تعلیم ہوگی جس میں تمام بنی نوع کے ساتھ نیکی کرنا صرف احسان کی حد تک محدود نہیں رکھا بلکہ وہ درجہ جوش طبعی بھی بیان کر دیا جس کا نام ایتاء ذی القربیٰ ہے کیونکہ احسان کرنے والا اگر چہ احسان کے وقت ایک نیکی کرتا ہے مگر جزا اور پاداش کا خواہاں ہوتا ہے ۔ اسی لئے وہ کبھی منکر احسان اور کا فرنعمت پر ناراض بھی ہو جاتا ہے۔ اور کبھی جوش میں آ کر اپنا احسان بھی یاد دلاتا ہے مگر طبعی جوش سے نیکی کرنا جس کو قرآن نے ذوی القربی کی نیکی کے ساتھ مشابہت دی ہے ۔ یہ در حقیقت آخری درجہ نیکی کا ہے جس کے بعد اور کوئی مرتبہ نیکی کا نہیں کیونکہ ماں کی نیکی بچہ کے ساتھ اور اس کا رحم ایک طبعی جوش ہے اور نا کارہ شیر خوار سے کوئی شکر گذاری مطلوب نہیں۔ یہ تین درجے بنی نوع کی حق گذاری کے ہیں جو قرآن شریف نے بیان فرمائے ہیں ۔ اب جب ہم تو ریت اور انجیل کو دیکھتے ہیں تو ہمیں ایمانا کہنا پڑتا ہے کہ یہ دونوں کتابیں اس اعلیٰ درجہ کی حق گذاری سے خالی ہیں ۔ بھلا ہم ان دونوں کتابوں سے اس تیسرے درجہ کی کیا توقع رکھیں ۔ ان میں تو پہلا اور دوسرا درجہ بھی کامل طور پر بیان نہیں کیا گیا کیونکہ جس حالت میں توریت صرف یہودیوں کے لئے نازل ہوئی ہے اور حضرت مسیح بھی صرف بنی اسرائیل کی بھیڑوں کے لئے بھیجے گئے ہیں تو ان کو دوسروں سے کیا غرض اور کیا تعلق تھا تا ان کی نسبت عدل اور احسان کی ہدایتیں بیان کی جاتیں ۔ لہذا وہ تمام احکام بنی اسرائیل تک ہی محدود رہے اور اگر محدود نہیں تھے تو کیوں