سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب — Page 367
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۳۶۵ سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب واقعہ تو ہمارے مخالفوں کو بھی معلوم ہے کہ تیرہ برس کے عرصہ میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم (۳۹) دشمنوں کی ہر ایک سختی پر صبر کرتے رہے اور صحابہ کو سخت تاکید تھی کہ بدی کا مقابلہ نہ کیا جائے چنانچہ مخالفوں نے بہت سے خون بھی کئے اور غریب مسلمانوں کو زدوکوب کرنے اور خطرناک زخم پہنچانے کا تو کچھ شمار نہ رہا۔ آخر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کرنے کے لئے حملہ کیا۔ سو ایسے حملہ کے وقت خدا نے اپنے نبی کو شتر اعدا سے محفوظ رکھ کر مدینہ میں پہنچا دیا اور خوشخبری دی کہ جنہوں نے تلوار اٹھائی وہ تلوار ہی سے ہلاک کئے جائیں گے۔ پس ذرا عقل اور انصاف سے سوچو کہ کیا اس روئداد سے یہ نتیجہ نکل سکتا ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ جمعیت لوگوں کی ہوگئی تو پھر لڑائی کی نیت جو پہلے سے دل میں پوشیدہ تھی ظہور میں آئی؟ افسوس ہزار افسوس کہ تعصب مذہبی کے رو سے عیسائی دین کے حامیوں کی کہاں تک نوبت پہنچ گئی ہے۔ یہ بھی نہیں سوچتے کہ مدینہ میں جا کر جب مکہ والوں کے تعاقب کے وقت بدر کی لڑائی ہوئی جو اسلام کی پہلی لڑائی ہے تو کون سی جمعیت پیدا ہوگئی تھی۔ اس وقت تو کل تین سو تیرہ آدمی مسلمان تھے اور وہ بھی اکثر نوعمر نا تجربه کار جو میدان بدر میں حاضر ہوئے تھے۔ پس سوچنے کا مقام ہے کہ کیا اس قدر آدمیوں پر بھروسہ کر کے عرب کے تمام بہادروں اور یہود اور نصاری اور لاکھوں انسانوں کی سرکوبی کیلئے میدان میں کسی کا نکلنا عقل فتوی دے سکتی ہے؟!!! اس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ نکلنا ان تدبیروں اور ارادوں کا نتیجہ نہیں تھا جو انسان دشمنوں کے ہلاک کرنے اور اپنی فتح یابی کیلئے سوچتا ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو کم سے کم میں چالیس ہزار فوج کی جمعیت حاصل کر لینا ضروری تھا اور پھر اسکے بعد لاکھوں انسانوں کا مقابلہ کرنا۔ لہذا صاف ظاہر ہے کہ یہ لڑائی مجبوری کے وقت خدا تعالیٰ کے حکم سے ہوئی تھی نہ ظاہری سامان کے بھروسہ پر ۔ اس جگہ ایک اور اعتراض کو دفع کرنا بھی ضروری ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر مدار نجات