سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 368 of 494

سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب — Page 368

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۳۶۶ سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب (۲۰) توحید اور اعمال صالحہ ہیں جو خدا کی محبت اور خوف سے ظہور پذیر ہوں تو یہودیوں کو کیوں اسلام کی طرف بلایا گیا کیا یہودیوں میں ایک بھی ایسا آدمی باقی نہیں رہا تھا جو عملی طور پر تو حید کا پابند اور خدا کی اطاعت کا جُوا اپنی گردن پر رکھتا ہو؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہم ثابت کر چکے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے وقت اکثر یہود اور نصاریٰ فاسق تھے جیسا کہ قرآن شریف صاف گواہی دیتا ہے کہ وَاَكْثَرُهُمْ فُسِقُونَ ۔ پس جبکہ اکثر لوگ ان میں فاسق تھے جنہوں نے عملی طور پر توحید کے آداب اور اعمال صالحہ کو چھوڑ دیا تھا اس لئے خدا کے رحم نے ان کی اصلاح کیلئے اپنی سنت قدیمہ کے موافق یہی تقاضا کیا کہ ان کی طرف رسول بھیجے۔ پھر اگر فرض بھی کر لیں کہ ان میں کوئی شاذ و نا در مؤحد اور صالح تھا۔ سو وہ خدا کے رسول سے سرکش رہ کر صالح نہ رہا اور جبکہ ادنی گناہ انسان کے دل کو سیاہ کر دیتا ہے تو پھر کیوں کر باور کیا جائے کہ خدا کے رسول کی نافرمانی کرنے والا اور اس سے عداوت رکھنے والا پاک دل رہ سکتا ہے؟ سوال -۳۔ قرآن میں انسان اور خدا کے ساتھ محبت کرنے کے بارے میں اور خدا کی انسان کے ساتھ محبت کرنے کے بارے میں کونسی آیتیں ہیں جن میں خاص محبت یا حب کا فعل استعمال کیا گیا ہے۔ الجواب۔ واضح ہو کہ قرآن کی تعلیم کا اصل مقصد یہی ہے کہ خدا جیسا کہ واحد لاشریک ہے ایسا ہی اپنی محبت کے رو سے بھی اس کو واحد لاشریک ٹھہراؤ جیسا که کلمه لا اله الا اللہ جو ہر وقت مسلمانوں کو ورد زبان رہتا ہے اسی کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔ کیونکہ اله۔ ولاہ سے مشتق ہے ۔ اور اس کے معنے ہیں ایسا محبوب اور معشوق جس کی پرستش کی جائے۔ یہ کلمہ نہ توریت نے سکھلایا اور نہ انجیل نے ۔ صرف قرآن نے سکھلایا۔ اور یہ کلمہ اسلام سے ایسا تعلق رکھتا ہے کہ گویا اسلام کا تمغہ ہے۔ التوبة: ٨