سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 361 of 494

سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب — Page 361

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۳۵۹ سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب اور قرآن نے ناحق پھر ایسی شریعت کی بنیاد ڈال دی جو پہلے مکمل ہو چکی تھی ۔ یہی دھو کہ (۳۳) عیسائیوں کے ایمان کو کھا گیا ہے۔ مگر یادر ہے کہ یہ بات بالکل صحیح نہیں ہے بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ چونکہ انسان سہو و نسیان سے مرکب ہے اور نوع انسان میں خدا کے احکام عملی طور پر ہمیشہ قائم نہیں رہ سکتے اس لئے ہمیشہ نئے یاد دلانے والے اور قوت دینے والے کی ضرورت پڑتی ہے۔ لیکن قرآن شریف صرف ان ہی دوضرورتوں کی وجہ سے نازل نہیں ہوا بلکہ وہ پہلی تعلیموں کا در حقیقت متم اور مکمل ہے مثلاً توریت کا زور حالات موجودہ کے لحاظ سے زیادہ تر قصاص پر ہے اور انجیل کا زور حالات موجودہ کے لحاظ سے عفو اور صبر اور در گذر پر ہے اور قرآن ان دونوں صورتوں میں محل شناسی کی تعلیم دیتا ہے۔ ایسا ہی ہر ایک باب میں تو ریت افراط کی طرف گئی ہے اور انجیل تفریط کی طرف اور قرآن شریف وسط کی تعلیم کرتا اور محل اور موقعہ کا سبق دیتا ہے۔ گونفس تعلیم تینوں کتابوں کا ایک ہی ہے مگر کسی نے کسی پہلو کو شدومد کے ساتھ بیان کیا اور کسی نے کسی پہلو کو ۔ اور کسی نے فطرت انسانی کے لحاظ سے درمیانہ راہ لیا جو طریق تعلیم قرآن ہے اور چونکہ محل اور موقعہ کا لحاظ رکھنا یہی حکمت ہے سو اس حکمت کو صرف قرآن شریف نے سکھلایا ہے۔ توریت ایک بے ہودہ بختی کی طرف کھینچ رہی ہے ہے اور انجیل ایک بیہودہ عضو پر زور دے رہی ہے اور قرآن شریف وقت شناسی کی تاکید کرتا ہے۔ پس جس طرح پستان میں آ کر خون دودھ بن جاتا ہے۔ اسی طرح توریت اور انجیل کے احکام قرآن میں آکر حکمت بن گئے ہیں۔ اگر قرآن شریف نہ آیا ہوتا تو توریت اور انجیل اس اندھے کے تیر کی طرح ہوتیں کہ کبھی ایک آدھ دفع نشانہ پر لگ گیا اور سو دفعہ خطا گیا۔ غرض شریعت قصوں کے طور پر توریت سے آئی اور مثالوں کی طرح انجیل سے ظاہر ہوئی اور حکمت کے پیرا یہ میں قرآن شریف سے حق اور حقیقت کے طالبوں کو ملی۔ یہ تختی اور نرمی اپنے اپنے زمانہ اور قوم کی موجودہ حالت کے لحاظ سے مناسب تعلیم تھی مگر حقیقی تعلیم نہیں تھی جو قا بل ترک نہ ہو ۔ منہ