سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 360 of 494

سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب — Page 360

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۳۵۸ سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب (۳۲) بھی ثابت نہیں اور اگر کچھ ثابت ہے تو صرف یہی کہ چند آدمی طمع اور لالچ سے بھرے ہوئے اس کے ساتھ ہو گئے اور انجام کا رانہوں نے بڑی قابل شرم بے وفائیاں دکھلائیں اور اگر یسوع نے خود کشی کی تو میں اس سے زیادہ ہرگز تسلیم نہیں کروں گا کہ ایک ایسی بے وقوفی کی حرکت اس سے صادر ہوئی جس سے اس کی انسانیت اور عقل پر ہمیشہ کے لئے داغ لگ گیا۔ ایسی حرکت جس کو انسانی قوانین بھی ہمیشہ جرائم کے نیچے داخل کرتے ہیں کیا کسی عقلمند سے صادر ہوسکتی ہے؟ ہر گز نہیں۔ پس ہم پوچھتے ہیں کہ یسوع نے کیا سکھلایا اور کیا دیا؟ کیا وہ لعنتی قربانی جس کا عقل اور انصاف کے نزدیک کوئی بھی نتیجہ معلوم نہیں ہوتا۔ یادر ہے کہ انجیل کی تعلیم میں کوئی نئی خوبی نہیں بلکہ یہ سب تعلیم تو ریت میں پائی جاتی ہے اور اس کا ایک بڑا حصہ یہودیوں کی کتاب طالموت میں اب تک موجود ہے۔ اور یہودی فاضل اب تک روتے ہیں کہ ہماری پاک کتابوں سے یہ فقرے چرائے گئے ہیں۔ چنانچہ حال میں جو ایک فاضل یہودی کی کتاب میرے پاس آئی ہے اس نے اسی بات کا ثبوت دینے کے لئے کئی ورق لکھے ہیں اور بڑے زور سے اسناد پیش کئے ہیں کہ یہ فقرات کہاں کہاں سے چرائے گئے ۔ میں نے یہ کتابیں صرف میاں سراج الدین کے لئے منگوائی تھیں مگر ان کی بدقسمتی ہے کہ وہ دیکھنے سے پہلے چلے گئے ۔ محقق عیسائی اس بات کو قبول کرتے ہیں کہ در حقیقت انجیل یہودیوں کی کتابوں کے ان مضامین کا ایک خلاصہ ہے جو حضرت مسیح کو پسند آئی لیکن بالآخر یہ کہتے ہیں کہ مسیح کے دنیا میں آنے سے یہ غرض نہیں تھی کہ کوئی نئی تعلیم لائے بلکہ اصل مطلب تو اپنے وجود کی قربانی دینا تھا یعنی وہی لعنتی قربانی جس کے بار بار کے ذکر سے میں اس رسالہ کو پاک رکھنا چاہتا ہوں ۔ غرض عیسائیوں کو یہ دھو کہ لگا ہوا ہے کہ شریعت تو ریت تک مکمل ہو چکی اس لئے یسوع کوئی شریعت لے کر نہیں آیا بلکہ نجات دینے کے سامان لے کر آیا