سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 354 of 494

سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب — Page 354

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۳۵۲ سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب ۲۲ تھی کیونکہ جب تک توحید کی زندہ روح انسان کے دل میں قائم نہ ہو تب تک نجات نہیں ہو سکتی۔ یہودی مُردوں کی طرح تھے اور باعث سخت دلی اور طرح طرح کی نافرمانیوں کے وہ زندہ روح ان میں سے نکل چکی تھی۔ ان کو خدا کے ساتھ کچھ بھی میلان باقی نہیں رہا تھا اور ان کی توریت باعث نقصان تعلیم اور نیز بوجہ لفظی اور معنوی تحریفوں کے اس لائق نہیں رہی تھی جو کامل طور پر رہبر ہو سکے اس لئے خدا نے زندہ کلام تازہ بارش کی طرح اتارا اور اس زندہ کلام کی طرف ان کو بلایا تا وہ طرح طرح کے دھوکوں اور غلطیوں سے نجات پا کر حقیقی نجات کو حاصل کریں۔ سوقرآن کے نزول کی ضرورتوں میں سے ایک یہ تھی کہ تا مردہ طبع یہودیوں کو زندہ تو حید سکھائے اور دوسرے یہ کہ تا ان کی غلطیوں پر ان کو متنبہ کرے اور تیسرے یہ کہ تا وہ مسائل کہ جو توریت میں محض اشارہ کی طرح بیان ہوئے تھے جیسا کہ مسئلہ حشر اجساد اور مسئلہ بقاء روح اور مسئلہ بہشت اور دوزخ ان کے مفصل حالات سے آگہی بخشے ۔ یہ بات سچ ہے کہ سچائی کی تخم ریزی توریت سے ہوئی اور انجیل سے اس شخم نے ایک آئندہ کی بشارت دینے والے کی طرح منہ دکھلایا اور جیسے ایک کھیت کا سبزہ پوری صحت اور عمدگی سے نکلتا ہے اور بزبان حال خوشخبری دیتا ہے کہ اس کے بعد اچھے پھل اور اچھے خوشے ظہور کرنے والے ہیں ایسا ہی انجیل کامل شریعت اور کامل رہبر کے لئے خوشخبری کے طور پر آئی اور فرقان سے وہ تم اپنے کمال کو پہنچا جو اپنے ساتھ اس کامل نعمت کو لایا جس نے حق اور باطل میں بکلی فرق کر کے دکھلایا اور معارف دینیہ کو اپنے کمال تک پہنچایا جیسا کہ توریت میں پہلے سے لکھا تھا کہ ”خدا سینا سے آیا اورسعیر سے طلوع ہوا اور فاران کے پہاڑ سے ان پر چمکا ۔ !!! یہ بات بالکل ثابت شدہ امر ہے کہ شریعت کے ہر ایک پہلو کو کمال کی صورت لا استثنا باب ۲۳ آیت ۲ (ناشر)