سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب — Page 353
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۳۵۱ سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب اب یہ بھی یادر ہے کہ قرآن کی تعلیم سے بے شک ثابت ہوتا ہے کہ یہود اور ﴿۲۵﴾ نصاری سے لڑائیاں ہوئیں مگر ان لڑائیوں کا ابتدا اہل اسلام کی طرف سے ہرگز نہیں ہوا اور یہ لڑائیاں دین میں جبراً داخل کرنے کے لئے ہر گز نہیں تھیں بلکہ اس وقت ہو ئیں جبکہ خود اسلام کے مخالفوں نے آپ ایذا دے کر یا موذیوں کو مدد دے کر ان لڑائیوں کے اسباب پیدا کئے ۔ اور جب اسباب انہیں کی طرف سے پیدا ہو گئے تو غیرت الہی نے ان قوموں کو سزا دینا چاہا اور اس سزا میں بھی رحمت الہی نے یہ رعایت رکھی کہ اسلام میں داخل ہونے والا یا جزیہ دینے والا اس عذاب سے بچ جائے ۔ یہ رعایت بھی خدا کے قانون قدرت کے مطابق تھی کیوں کہ ہر ایک مصیبت جو عذاب کے طور پر نازل ہوتی ہے مثلاً و بابا قحط تو انسانوں کا کانشنس خود اس طرف متوجہ ہو جاتا ہے کہ وہ دعا اور توبہ اور تضرع اور صدقات اور خیرات سے اس عذاب کو موقوف کرانا چاہیں ۔ چنانچہ ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ اس سے یہ ثبوت ملتا ہے کہ رحیم خدا عذاب کو دور کرنے کے لئے خود الہام دلوں میں ڈالتا ہے جیسا کہ حضرت موسیٰ کی دعائیں کئی دفعہ منظور ہوکر بنی اسرائیل کے سر سے عذاب ٹل گیا۔ غرض اسلام کی لڑائیاں سخت طبع مخالفوں پر ایک عذاب تھا جس میں ایک رحمت کا طریق بھی کھلا تھا۔ سو یہ خیال کرنا دھوکہ ہے کہ اسلام نے توحید کے شائع کرنے کے لئے لڑائیاں کیں ۔ یادرکھنا چاہیے کہ لڑائیوں کی بنیاد محض سزا دہی کے طور پر اس وقت سے شروع ہوئی کہ جب دوسری قوموں نے ظلم اور مزاحمت پر کمر باندھی۔ رہا یہ سوال کہ یہودیوں کو مسلمان ہونے کی ضرورت کیا تھی وہ تو پہلے سے موحد تھے؟ اس کا جواب ہم ابھی دے چکے ہیں کہ توحید یہودیوں کے دلوں میں قائم نہ تھی صرف کتابوں میں تھی اور وہ بھی ناقص ۔ سو تو حید کی زندہ روح حاصل کرنے کی ضرورت