سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب — Page 351
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۳۴۹ سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب مشغول ہونا اور اس کی محبت میں کھوئے جانا۔ سو ملی طور پر یہ تو حید ان میں باقی نہیں رہی (۲۳) تھی اور خدا تعالیٰ کی عظمت اور جلال ان کے دلوں پر سے اٹھ گئی تھی ۔ وہ لبوں سے خدا خدا پکارتے تھے مگر دل ان کے شیطان کے پرستار ہو گئے تھے اور ان کے سینے دنیا پرستی اور دنیا طلبی اور مکر اور فریب میں حد سے زیادہ بڑھ گئے تھے۔ ان میں درویشوں اور راہبوں کی پوجا ہوتی تھی اور سخت قابل شرم بے حیائی کے کام ان میں ہوتے تھے۔ ریا کا ریاں بڑھ گئی تھیں ۔ مکاریاں زیادہ ہوگئی تھیں اور ظاہر ہے کہ توحید صرف اس بات کا نام نہیں کہ منہ سے لا الہ الا اللہ کہیں اور دل میں ہزاروں بت جمع ہوں بلکہ جو شخص کسی اپنے کام اور مکر اور فریب اور تدبیر کو خدا کی سی عظمت دیتا ہے یا کسی انسان پر ایسا بھروسہ رکھتا ہے جو خدا تعالیٰ پر رکھنا چاہیے یا اپنے نفس کو وہ عظمت دیتا ہے جو خدا کو دینی چاہیے ان سب صورتوں میں وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک بت پرست ہے۔ بت صرف و ہی نہیں ہیں جو سونے یا چاندی یا پیتل یا پتھر وغیرہ سے بنائے جاتے اور ان پر بھروسہ کیا جاتا ہے بلکہ ہر ایک چیز یا قول یا فعل جس کو وہ عظمت دی جائے جو خدا تعالیٰ کا حق ہے وہ خدا تعالیٰ کی نگہ میں بت ہے۔ ہاں یہ سچ ہے کہ توریت میں اس بار یک بت پرستی کی تصریح نہیں ہے مگر قرآن شریف ان تصریحات سے بھرا پڑا ہے۔ سو قرآن شریف کو نازل کر کے خدا تعالیٰ کا ایک یہ بھی منشاء تھا کہ یہ بت پرستی بھی جو دق کی بیماری کی طرح لگی ہوئی تھی لوگوں کے دلوں سے دور کرے اور اس زمانہ میں یہودی اس قسم کی بت پرستی میں غرق تھے اور توریت ان کو چھڑا نہیں سکتی تھی اس لئے کہ توریت میں یہ بار یک تعلیم نہیں تھی اور نیز اس لئے کہ یہ بیماری جو تمام یہودیوں میں پھیل گئی تھی ایک پاک تو حید کے نمونہ کو چاہتی تھی جو زندہ طور پر ایک کامل انسان میں نمودار ہو۔ یادر ہے کہ حقیقی تو حید جس کا اقرار خدا ہم سے چاہتا ہے اور جس کے اقرار سے نجات