سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 350 of 494

سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب — Page 350

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۳۴۸ سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب ۲۲ نہیں۔ یسوع ناصری نے اپنا قدم قرآن کی تعلیم کے موافق رکھا اس لئے اس نے خدا سے انعام پایا۔ ایسا ہی جو شخص اس پاک تعلیم کو اپنارہبر بنائے گا وہ بھی یسوع کی مانند ہو جائے گا۔ یہ پاک تعلیم ہزاروں کو عیسی مسیح بنانے کے لئے طیار ہے اور لاکھوں کو بنا چکی ہے۔ ہم نہایت نرمی اور ادب سے حضرات پادری صاحبوں کی خدمت میں سوال کرتے ہیں کہ اس بیچارہ ضعیف انسان کو خدا ٹھہرا کر آپ کی روحانیت کو کونسی ترقی ہوئی ہے۔ اگر وہ ترقی ثابت کرو تو ہم لینے کو طیار ہیں ۔ ورنہ اے بد بخت مخلوق پرست لوگو! آؤ ہماری ترقیات دیکھو اور مسلمان ہو جاؤ ۔ کیا یہ انصاف کی بات نہیں کہ جو شخص اپنی پاک زندگی اور پاک معرفت اور پاک محبت پر آسمانی شہادت رکھتا ہے وہی سچا ہے۔ اور جس کے ہاتھ میں صرف قصے اور کہانیاں ہیں وہ بد بخت جھوٹا اور نجاست خوار ہے ۔ سوال۔۲۔ اگر اسلام کا مقصد تو حید کی طرف آدمیوں کو رجوع کرنا ہے تو کیا وجہ ہے کہ آغاز اسلام میں یہودیوں کے ساتھ جن کی الہامی کتا بہیں توحید کے سوا اور کچھ نہیں سکھاتیں ۔ جہاد کیا گیا ؟ یا کیوں آجکل یہودیوں یا اور توحید کے ماننے والوں کی نجات کے لئے مسلمان ہونا ضروری سمجھا جائے۔ الجواب ۔ واضح ہو کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں یہودی توریت کی ہدایتوں سے بہت دور جا پڑے تھے۔ اگر چہ یہ بیچ ہے کہ ان کی کتابوں میں تو حید باری تعالیٰ تھی مگر وہ اس توحید سے مُنتفع نہیں ہوتے تھے۔ اور وہ علت غائی جس کے لئے انسان پیدا کیا گیا اور کتا بیں نازل ہوئیں اس کو کھو بیٹھے تھے۔ حقیقی توحید یہ ہے کہ خدا کی ہستی کو مان کر اور اس کی وحدانیت کو قبول کر کے پھر اس کامل اور حسن خدا کی اطاعت اور رضا جوئی میں