سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب — Page 349
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۳۴۷ سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب علیحدہ ہونا اپنی تباہی کا موجب جانتے ہیں اس لئے استغفار کرتے ہیں تا خدا اپنی محبت (۲۱) میں تھامے رکھے۔ اور دوسری قسم استغفار کی یہ ہے کہ گناہ سے نکل کر خدا کی طرف بھاگنا اور کوشش کرنا کہ جیسے درخت زمین میں لگ جاتا ہے ایسا ہی دل خدا کی محبت کا اسیر ہو جائے تا پاک نشو و نما پا کر گناہ کی خشکی اور زوال سے بچ جائے اور ان دونوں صورتوں کا نام استغفار رکھا گیا کیونکہ غفر جس سے استغفار نکلا ہے ڈھانکنے اور دبانے کو کہتے ہیں۔ گویا استغفار سے یہ مطلب ہے کہ خدا اس شخص کے گناہ جو اس کی محبت میں اپنے تئیں قائم کرتا ہے دبائے رکھے اور بشریت کی جڑیں نگی نہ ہونے دے بلکہ الوہیت کی چادر میں لے کر اپنی قدوسیت میں سے حصہ دے یا اگر کوئی جڑا گناہ کے ظہور سے ننگی ہوگئی ہو پھر اس کو ڈھانک دے اور اس کی برہنگی کے بداثر سے بچائے۔ سو چونکہ خدا مبدء فیض ہے اور اس کا نور ہر ایک تاریکی کے دور کرنے کے لئے ہر وقت طیار ہے اس لئے پاک زندگی کے حاصل کرنے کے لئے یہی طریق مستقیم ہے کہ ہم اس خوفناک حالت سے ڈر کر اس چشمہ طہارت کی طرف دونوں ہاتھ پھیلائیں تا وہ چشمہ زور سے ہماری طرف حرکت کرے اور تمام گند کو یکدفعہ لے جائے۔ خدا کو راضی کرنے والی اس سے زیادہ کوئی قربانی نہیں کہ ہم در حقیقت اس کی راہ میں موت کو قبول کر کے اپنا وجود اس کے آگے رکھ دیں ۔ اس قربانی کی خدا نے ہمیں تعلیم دی ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّاتُحِبُّونَ یعنی تم حقیقی نیکی کو کسی طرح پا نہیں سکتے جب تک تم اپنی تمام پیاری چیزیں خدا کی راہ میں خرچ نہ کرو۔ یہ راہ ہے جو قرآن نے ہمیں سکھائی ہے اور آسمانی گواہیاں بلند آواز سے پکار رہی ہیں کہ یہی راہ سیدھی ہے اور عقل بھی اسی پر گواہی دیتی ہے۔ پس جو امر گوا ہوں کے ساتھ ثابت ہے اس کے ساتھ وہ امر مقابلہ نہیں کھا سکتا جس پر کوئی گواہی آل عمران: ۹۳