سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب — Page 335
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۳۳۳ سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب اگر نجات اسی طرح حاصل ہو سکتی ہے کہ اول یسوع کو شیطان اور خدا سے برگشتہ اور (2) خدا سے بیزار ٹھہرایا جائے تو لعنت ہے ایسی نجات پر !!! اس سے بہتر تھا کہ عیسائی اپنے لئے دوزخ قبول کر لیتے لیکن خدا کے ایک مقرب کو شیطان کا لقب نہ دیتے ۔ افسوس کہ ان لوگوں نے کیسی بیہودہ اور ناپاک ہاتوں پر بھروسہ کر رکھا ہے۔ ایک طرف تو خدا کا بیٹا اور خدا سے نکلا ہوا۔ اور خدا سے ملا ہوا فرض کرتے ہیں اور دوسری طرف شیطان کا لقب اس کو دیتے ہیں کیونکہ لعنت شیطان سے مخصوص ہے اور لعین شیطان کا نام ہے اور لعنتی وہ ہوتا ہے جو شیطان سے نکلا اور شیطان سے ملا ہوا اور خود شیطان ہے۔ پس عیسائیوں کے عقیدہ کے رو سے یسوع میں دو قسم کی تثلیث پائی گئی ۔ ایک رحمانی اور ایک شیطانی ۔ اور نعوذ باللہ یسوع نے شیطان میں ہو کر شیطان کے ساتھ اپنا وجو د ملایا اور لعنت کے ذریعہ سے شیطانی خواص اپنے اندر لئے یعنی یہ کہ خدا کا نافرمان ہوا، خدا سے بیزار ہوا، خدا کا دشمن ہوا۔ اب میاں سراج الدین آپ انصاف فرماویں کہ کیا یہ مشن جو مسیح کی طرف منسوب کیا جاتا ہے کوئی روحانی یا معقولی پاکیزگی اپنے اندر رکھتا ہے؟ کیا دنیا میں اس سے بدتر کوئی اور عقیدہ بھی ہوگا کہ ایک راستباز کو اپنی نجات کے لئے خدا کا دشمن اور خدا کا نا فرمان اور شیطان قرار دیا جائے ؟ خدا کو جو قادر مطلق اور رحیم و کریم تھا اس لعنتی قربانی کی کیا ضرورت پڑی؟ پھر جب اس اصول کو اس پہلو سے دیکھا جائے کہ کیا اس لعنتی قربانی کی تعلیم یہودیوں کو بھی دی گئی ہے یا نہیں تو اور بھی اس کے کذب کی حقیقت کھلتی ہے کیونکہ یہ بات ظاہر ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں انسانوں کی نجات کیلئے صرف یہی ایک ذریعہ تھا کہ اس کا ایک بیٹا ہو اور وہ تمام گنہ گاروں کی لعنت کو اپنے ذمہ لے لے اور پھر لعنتی قربانی بن کر صلیب پر کھینچا جائے تو یہ امر ضروری تھا کہ یہودیوں کیلئے توریت اور دوسری کتابوں