سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب — Page 334
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۳۳۲ سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب لعنت کی لکڑی پر لٹکا یا گیا۔ اسی لئے ہم پہلے اشارہ کر آئے ہیں کہ یسوع مسیح کی قربانی لعنتی قربانی ہے۔ گناہ سے لعنت آئی اور لعنت سے صلیب ہوئی ۔ اب تنقیح طلب یہ امر ہے کہ کیا لعنت کا مفہوم کسی راستباز کی طرف منسوب کر سکتے ہیں؟ سو واضح ہو کہ عیسائیوں نے یہ بڑی غلطی کی ہے کہ یسوع کی نسبت لعنت کا اطلاق جائز رکھا۔ گو وہ تین دن تک ہی ہو یا اس سے بھی کم کیونکہ لعنت ایک ایسا مفہوم ہے جو شخص ملعون کے دل سے تعلق رکھتا ہے اور کسی شخص کو اس وقت لعنتی کہا جاتا ہے جبکہ اس کا دل خدا سے بالکل برگشتہ اور اس کا دشمن ہو جائے اسی لئے لعین شیطان کا نام ہے۔ اور اس بات کو کون نہیں جانتا کہ لعنت قرب کے مقام سے رڈ کرنے کو کہتے ہیں اور یہ لفظ اس شخص کے لئے بولا جاتا ہے جس کا دل خدا کی محبت اور اطاعت سے دور جا پڑے اور درحقیقت وہ خدا کا دشمن ہو جائے ۔ لفظ لعنت کے یہی معنے ہیں جس پر تمام اہل لغت نے اتفاق کیا ہے۔ اب ہم پوچھتے ہیں کہ اگر در حقیقت یسوع مسیح پر لعنت پڑ گئی تھی تو اس سے لازم آتا ہے کہ درحقیقت وہ مورد غضب الہی ہو گیا تھا۔ اور خدا کی معرفت اور اطاعت اور محبت اس کے دل سے جاتی رہی تھی اور خدا اس کا دشمن اور وہ خدا کا دشمن ہو گیا تھا اور خدا اس سے بیزار اور وہ خدا سے بیزار ہو گیا تھا جیسا کہ لعنت کا مفہوم ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ وہ لعنت کے دنوں میں در حقیقت کا فر اور خدا سے برگشتہ اور خدا کا دشمن اور شیطان کا حصہ اپنے اندر رکھتا تھا۔ پس یسوع کی نسبت ایسا اعتقاد کرنا گویا نعوذ باللہ اس کو شیطان کا بھائی بنانا ہے اور میرے خیال میں ایک راستباز نبی کی نسبت ایسی بے با کی کوئی خدا ترس نہیں کرے گا بجز اس شخص کے جو خبیث طبع اور نا پاک طبع ہو۔ پس جبکہ یہ بات باطل ہوئی کہ حقیقی طور پر یسوع مسیح کا دل مورد لعنت ہو گیا تھا۔ پس ساتھ ہی یہ بھی ماننا پڑے گا کہ ایسی لعنتی قربانی بھی باطل اور نادان لوگوں کا اپنا منصوبہ ہے ۔