سراجِ منیر — Page 60
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۶۲ سراج منیر اور بہت مخالفوں کے انکساری خط پر خط آرہے ہیں جو ہم غلطی پر تھے۔ فالحمد لله علی ذلک۔ سولہویں پیشگوئی براہین احمدیہ کے صفحہ ۲۲۷ میں ایک آریہ کے متعلق ایک پیشگوئی ہے جس کا نام ملا وامل ہے وہ ابھی تک بقید حیات ہے یہ شخص دق کے مرض میں مبتلا ہو گیا تھا ایک دن وہ میرے پاس آکر اور اپنی زندگی سے ناامید ہو کر بہت بے قراری سے رویا۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ اس نے اس روز متوحش خواب بھی دیکھا تھا جہاں تک کہ مجھے یاد ہے خواب یہ تھا کہ اس کو ایک زہریلے سانپ نے کاٹا ہے اور تمام بدن میں زہر سرایت کر گیا ہے اس خواب نے اس کو نہایت عمگین کر دیا تھا اور پہلے سے ایک نرم تپ نے جو کھانے کے بعد تیز ہو جاتی تھی سخت گھبراہٹ میں اس کو ڈالا ہوا تھا اس لئے وہ بے قراری اور قریب قریب مایوسی کی حالت میں تھا وہ میرے پاس آ کر رویا اس لئے میرا دل اس کی حالت پر نرم ہوا اور میں نے حضرت احدیت میں اس آریہ کے حق میں دعا کی جیسا کہ (۵۴) اس پہلے آریہ کے حق میں دعا کی تھی جس کا نام شرمیت ہے تب مجھے یہ الہام ہوا جو براہین کے صفحہ ۲۲۷ میں موجود ہے قُلْنَا يَا نَارُ كُونِي بَرُدًا وَ سَلَامًا یعنی ہم نے تپ کی آگ کو کہا کہ سرد اور سلامتی ہو چنانچہ اسی وقت اس کو جو موجود تھا اس الہام سے خبر دی گئی اور کئی اور لوگوں کو اطلاع دی گئی کہ وہ ضرور میری دعا کی برکت سے صحت پا جائے گا چنانچہ بعد اس کے ایک ہفتہ نہیں گذرا ہوگا کہ وہ آریہ خدا کے فضل سے صحت یا گیا۔ اگر چہ اب آریوں کی ایسی حالت ہے کہ ان کو سچی گواہی ادا کرنا موت سے بدتر ہے لیکن میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ واقعہ سرا سر صحیح ہے اور ایک ذرہ اس میں آمیزش مبالغہ نہیں اگر ان واقعات کے مضمون کے کسی حصہ میں مجھے شک ہوتا تو میں ان واقعات کو ہر گز نہ لکھتا اور مبالغہ کرنا اور اپنی طرف سے زیادہ باتیں ملا دینا لعنتی انسانوں کا کام ہے اور یہ دونوں واقعات شرمیت اور ملا وامل کے ے ابرس سے براہین احمدیہ میں لکھے ہوئے ہیں پس جو لوگ ان شبہات میں پڑتے ہیں کہ مخالفوں کے لئے ضرر رسانی کے ہی الہام ہوتے ہیں وہ ان دونوں الہاموں پر غور کریں کیونکہ یہ دونوں آریہ ہیں ہمارا کام تمام مخلوق کی ہمدردی ہے بھلا آریہ ہی کوئی مثال دیں کہ انہوں نے حمد سہو کتابت معلوم ہوتا ہے انکساری کے خط “ ہونا چاہیے۔(ناشر )