سراجِ منیر — Page 61
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۶۳ سراج منیر اس قسم کی ہمدردی کسی مسلمان سے کی ہو میں سچ سچ کہتا ہوں کہ سچی محبت سے خدا کے بندوں کی خیر خواہی کرنا بجز بچے مسلمان کے کسی سے ممکن ہی نہیں ہاں ریا کاری کے ساتھ ممکن ہو تو ہو مگر دل کے پاک انشراح سے ٹھیک ٹھیک اصول پر قدم مار کر دوسروں کو یہ باتیں حاصل نہیں ہو سکتیں مسلمان بالطبع مدارات کو چاہتے ہیں اس لئے کھانے پینے میں بھی ہندوؤں سے پر ہیز نہیں کرتے مگر ہندوؤں میں نفرت بھی ایک بخل کی نشانی ہے۔ ہاں کسی نافرمان پر خدا کا غضب ہونا خواہ وہ مسلمان ہو یا عیسائی یا ہندو یہ اور بات ہے ہمدردی کے اصول سے اس کو کچھ تعلق نہیں۔ اور میں نے جو ان دونوں آریوں کے واقعات پیش کرنے کے وقت قسم کھائی ہے یہ اس لئے کہ میں باور نہیں کرتا کہ وہ کم سے کم اس قدر حق پوشی کے لئے طیار نہ ہو جائیں کہ میری نسبت یہ الزام دیں کہ اس نے اصل واقعات میں کمی بیشی کر دی ہے اور نیز اس لئے قسم کھائی ہے کہ آج کل آریوں کو اسلام کے ساتھ ایک خاص بغض ہے۔ اور میں دوبارہ اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ایک ذرہ ان واقعات میں تفاوت نہیں خدا موجود ہے اور جھوٹے کے جھوٹ کو خوب جانتا ہے اگر میں نے جھوٹھ بولا ہے یا میں نے ان قصوں کو ایک ذرہ کم و بیش کر دیا ہے تو نہایت ضروری ہے کہ ایسا ظن کرنے والا خدا کی قسم کے ساتھ اشتہار دے دے کہ میں جانتا ہوں کہ اس شخص نے جھوٹ بولا ہے یا اس نے کم و بیش کر دیا ہے اور اگر نہیں کیا تو (۵۵) ایک سال تک اس تکذیب کا وبال مجھ پر پڑے اور ابھی میں بھی قسم کھا چکا ہوں پس اگر میں جھوٹا ہوں گایا میں نے ان قصوں کو کم و بیش کیا ہوگا تو اس دروغ گوئی اور افترا کی سزا مجھے بھگتنی پڑے گی لیکن اگر میں نے پوری دیانت سے لکھا ہے اور خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ میں نے پوری دیانت سے لکھا ہے تب مکذب کو خدا بے سزا نہیں چھوڑے گا یقیناً سمجھو کہ خدا ہے اور وہ ہمیشہ سچائی کی مدد کرتا ہے اگر کوئی امتحان کے لئے اٹھے تو عین مراد ہے کیونکہ امتحان سے خدا ہم میں اور مخالفوں میں فیصلہ کر دے گا ہمارے مخالف مولویوں کے لئے بھی یہ موقع ہے کہ ان لوگوں کو اٹھاویں جیسا کہ آتھم کے اٹھانے کے لئے کوشش کی تھی۔ فیصلہ ہو جانا ہر ایک کے لئے مبارک ہے اس سے دنیا کو پتہ لگ جائے گا کہ خدا موجود ہے اور