سراجِ منیر — Page 49
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۵۱ سراج منیر صفائی سے پوری ہو گئی۔ آتھم مذکور کی نسبت پیشگوئی کے الہام میں صاف طور پر یہ شرط تھی کہ اگر حق کی طرف رجوع کرے گا تو موت میں تا خیر ڈال دی جائے گی چنانچہ اس نے پیشگوئی کی میعاد میں اپنے اقوال اور افعال سے حق کی طرف رجوع کرنا ثابت کر دکھلایا۔ اس نے نہ صرف خوف کا اقرار کیا بلکہ وہ پیشگوئی کی میعاد میں اپنے گوشہ خلوت میں مردہ کی طرح پڑا ر ہائی اس عرصہ میں ایک مرتبہ اس کو بخار آیا تو وہ روتا ہوا بولا کہ "ہائے میں پکڑا گیا۔ اس نے میعاد کے اندر تمام مباحثات چھوڑ دیئے گویا اس کے منہ ۴۴۶ کے میں زبان نہ تھی میعاد کے دنوں میں اس نے اپنی عجیب تبدیلی دکھلائی کہ گویا یہ وہ آتھم ہی نہیں ہے۔ پس اگر چہ یہ تبدیلی اور ہر اس اور غم کہ اس کے چہرہ سے نمایاں تھار جوع کیلئے کافی دلیل تھی لیکن اس سے بڑھ کر اس نے یہ بھی ثبوت دے دیا کہ میں نے اس کو کہا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے اطلاع دی ہے کہ تو میعاد کے اندر ضرور ڈرتا رہا اور عیسائیت کے بیباکانہ طرز سے ضرور دستکش ہو کر ہیبت اسلام سے متاثر ہو گیا تھا جور جوع کے اقسام میں سے ایک قسم ہے اور اگر یہ بات صحیح نہیں ہے تو تجھے قسم کھانا چاہیے جس پر ہم چار ہزار روپیہ بلا توقف تجھے دیدیں گے لیکن اس نے قسم نہ کھائی اور نہ نالش سے اپنے ان جھوٹے الزاموں کو ثابت کیا جو اپنے خوف کی بنا ٹھہرائی تھی یعنی یہ الزام کہ گویا ہم نے ایک سانپ تعلیم یافتہ اس کی طرف چھوڑا تھا اور بعض سلح سپاہی بھیجے تھے۔ پس اس کی اس کارروائی سے صاف طور پر ثابت ہو گیا کہ ضرور اس نے رجوع کیا۔ اور الہامی عبارت میں یہ بھی تھا کہ اگر رجوع پر قائم نہ رہے گا اور حق کو چھپائے گا تو جلد مر جائے گا۔ چنانچہ وہ حق کا اخفا کر کے ہمارے آخری اشتہار سے سات ماہ کے اندر فوت ہو گیا۔ الہام کے موافق اس کا مرنا بھی صاف گواہی دیتا ہے کہ وہ صرف رجوع کے باعث سے کچھ دنوں تک زندہ رہ سکا تھا۔ یہ کیسی صاف بات ہے کہ الہام الہی میں آتھم کیلئے ایک زندہ رہنے کا پہلو تھا اور ایک مرنے کا پہلو۔ سوخدا نے پیشگوئی کے الفاظ کے مطابق دونوں پہلوؤں کو پورا کر کے دکھلا دیا۔ کیا زندہ رہنے کا پہلو جو شرط الہامی ہے پیچھے سے بنا دیا ہے اور پہلے الہام میں درج نہیں تھا ؟ اگر ایسی ہی سمجھ ناقص ہے تو ایک موٹے طور پر سمجھ لو کہ الہام کے لفظوں میں بادیہ کا ذکر تھا اور ہادیہ کا کمال موت سے تعبیر کیا گیا تھا۔ اب سچ کہو کہ کیا آتھم پیشگوئی کی آنتقم پیشگوئی کی میعاد میں جو پندرہ مہینے تھی اپنی پہلی عادتیں یعنی مباحثات اور مناظرات سے ایسا دستکش ہو گیا کہ اس کی نظیر اس کی تمام پہلی زندگی میں نہیں پائی جاتی۔ اس نے اس میعاد میں بقدر ایک سطر بھی کوئی مخالفانہ مضمون نہیں نکالا ۔ پس یہ نہایت صاف اور واضح ثبوت اس بات پر ہے کہ وہ ایام پیشگوئی میں اپنی قدیم عادتوں سے رکا رہا اور وہی رجوع تھا۔ منہ