سراجِ منیر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 37 of 494

سراجِ منیر — Page 37

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۳۹ سراج منیر آریہ مذہب کی حمایت میں خدا کی بھی کچھ پروا نہیں مگر بہر حال خدا نے اس کو میرا گواہ بنا دیا ۔ اگر میں نے اس قصہ میں ایک ذرہ جھوٹ بولا ہے تو وہ قسم کھا کر ایک اشتہار اس مضمون کا شائع کر دے کہ میں پر میشر کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ بیان سراسر جھوٹ ہے اور اگر جھوٹ نہیں تو میرے پر ایک برس تک سخت عذاب نازل ہو۔ پس اگر اس پر وہ فوق العادت عذاب نازل نہ ہوا کہ خلقت بول اٹھے کہ یہ خدا کا عذاب ہے تو مجھے جس موت سے چاہو ہلاک کرو۔ اس میں میری طرف سے یہ شرط ہے کہ انسان کے ذریعہ سے وہ عذاب نہ ہو محض بلا واسطہ آسمانی عذاب ہو۔ یہ تو ممکن ہے کہ یہ شخص قوم کی رعایت سے یونہی انکار کر دے یا بغیر اس قسم پیش کردہ کے اشتہار بھی دے دے کیونکہ میں نے اس قوم میں خدا کا خوف نہیں پایا مگر ممکن نہیں کہ وہ تم کھاوے اگر چہ دوسرے آریہ اس کو ہلاک کر دیں لیکن اگر قسم کھالے تو خدا کی غیرت ایک بھاری نشان دکھائے گی۔ ایسا نشان دکھائے گی کہ دنیا میں فیصلہ ہو جائے گا اور زمین آسمانی نور سے بھر جائے گی۔ دسواں نشان یہ ہے کہ خدا نے پنڈت دیانند کے مرنے سے تین مہینے یا چار مہینے پہلے اس کی موت کی مجھ کو خبر دی اور میں نے اسی آریہ کو جس کا قبل اس سے ذکر ہو چکا ہے خبر دے دی اور نیز اور کئی لوگوں کو اطلاع کی۔ چنانچہ اس الہام کے بعد عرصہ مذکورہ بالا تک پنڈت مذکور کے مرنے کی خبر آ گئی یہ پیشگوئی بھی براہین احمدیہ میں درج ہے۔ اگر وہ آریہ منکر ہو تو میرا وہی جواب ہے جو میں پہلے دے چکا ہوں۔ گیارہویں پیشگوئی یہ ہے کہ خدا تعالی نے الہام سے مجھ کو خبر دی تھی کہ تجھے زبان عربی میں ایک اعجازی بلاغت و فصاحت دی گئی ہے اور اس کا مقابلہ کوئی نہیں کرے گا۔ اس پیشگوئی کی طرف براہین احمدیہ کے صفحہ ۲۳۹ میں اشارہ ہے جہاں فرمایا ہے ان هذا ہیں جو کچھ شرمیت آریہ کا قصہ بیان کیا گیا ہے اس میں ایک ذرو مباللہ کی آمیزش نہیں میں خدا تعالی کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ بالکل بیچ اور صحیح ہے پس جو شخص میرے پر مبالغہ اور بات کو زیادہ کر دینے کی تہمت لگاوے وہ ظلم کرتا ہے اور ظلم کا علاج وہی ہے جو میں نے لکھ دیا ہے۔ منہ