سراجِ منیر — Page 26
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۸ سراج منیر کا مالک ہو سکتا ہے؟ کہاں ہے تمہارا پاک کانشنس اے مہذب آریو ! ؟ اور کہاں ہے فطرتی زیر کی اے آریہ کے دانشمند و! ہمارا یہ اصول ہے کہ کل بنی نوع کی ہمدردی کرو۔ اگر ایک شخص ایک ہمسایہ ہندو کو دیکھتا ہے کہ اس کے گھر میں آگ لگ گئی اور یہ نہیں اٹھتا کہ تا آگ بجھانے میں مدد (۲۴) دے تو میں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ مجھ سے نہیں ہے۔ اگر ایک شخص ہمارے مریدوں میں سے دیکھتا ہے کہ ایک عیسائی کو کوئی قتل کرتا ہے اور وہ اس کے چھڑانے کیلئے مدد نہیں کرتا تو میں تمہیں بالکل درست کہتا ہوں کہ وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ اسلام اس قوم کے بدمعاشوں کا ذمہ دار نہیں ہے۔ بعض ایک ایک روپیہ کی لالچ پر بچوں کا خون کر دیتے ہیں۔ ایسی وارداتیں اکثر نفسانی اغراض سے ہوا کرتی ہیں اور پھر بالخصوص ہماری جماعت جو نیکی اور پر ہیز گاری سیکھنے کیلئے میرے پاس جمع ہے وہ اس لئے میرے پاس نہیں آتے کہ ڈاکوؤں کا کام مجھ سے سیکھیں اور اپنے ایمان کو برباد کریں میں حلفاً کہتا ہوں اور سچ کہتا ہوں کہ مجھے کسی قوم سے دشمنی نہیں ۔ ہاں جہاں تک ممکن ہے ان کے عقائد کی اصلاح چاہتا ہوں۔ اور اگر کوئی گالیاں دے تو ہماراشکوہ خدا کی جناب میں ہے نہ کسی اور عدالت میں۔ اور با ایں ہمہ نوع انسان کی ہمدردی ہمارا حق ہے۔ ہم اس وقت کیونکر اور کن الفاظ سے آریہ صاحبوں کے دلوں کو تسلی دیں کہ بدمعاشی کی چالیں ہمارا طریق نہیں ہیں۔ ایک انسان کی جان جانے سے تو ہم دردمند ہیں اور خدا کی ایک پیشگوئی پوری ہونے سے ہم خوش بھی ہیں ۔ کیوں خوش ہیں؟ صرف قوموں کی بھلائی کیلئے ۔ کاش وہ سوچیں اور سمجھیں کہ اس اعلیٰ درجہ کی صفائی کے ساتھ کئی برس پہلے خبر دینا یہ انسان کا کام نہیں ہے۔ ہمارے دل کی اس وقت عجیب حالت ہے۔ درد بھی ہے اور خوشی بھی۔ درد اس لئے کہ اگر لیکھرام رجوع کرتا زیادہ نہیں تو اتنا ہی کرتا کہ وہ بد زبانیوں سے باز آجاتا تو مجھے اللہ تعالیٰ کی قسم ہے کہ میں اس کیلئے دعا کرتا۔ اور میں امید رکھتا تھا کہ اگر وہ ٹکڑے ٹکڑے بھی کیا جاتا تب بھی زندہ ہو جاتا۔ وہ خدا جس کو میں جانتا ہوں اس سے کوئی بات انہونی نہیں اور خوشی اس بات کی ہے کہ پیشگوئی نہایت صفائی سے پوری ہوئی ۔ آتھم کی پیشگوئی پر بھی اس نے دوبارہ روشنی ڈال دی۔ کاش اب لوگ سوچیں اور سمجھیں