سراجِ منیر — Page 23
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۵ سراج منیر سما چار دہم مارچ ۱۸۹۷ء میں الہام کے حوالہ سے عید کا دن لکھا ہے یہ اس کی غلطی ہے الہام کی عبارت یہ ہے ستعرف يوم العيد والعيد اقرب یعنی تو اس نشان کے دن کو جو عید کی مانند ہے پہچان لے گا اور عید اس نشان کے دن سے بہت قریب ہوگی۔ یہ خدا نے خبر دی ہے کہ عید کا دن قتل کے دن کے ساتھ ملا ہوا ہوگا اور ایسا ہی ہوا۔ عید جمعہ کو ہوئی اور شنبہ کو جوشوال ۱۳۱۴ھ کی دوسری تاریخ تھی لیکھرام قتل ہو گیا۔ سو اس تمام پیشگوئی کا ماحصل یہ ہے کہ یہ ایک ہیبت ناک واقعہ ہوگا جو چھ سال کے اندر وقوع میں آئے گا اور وہ دن عید کے دن سے ملا ہوا ہوگا یعنی دوسری شوال کی ہوگی۔ اب سوچو کیا یہ انسان کا کام ہے کہ تاریخ بتلائی گئی ، دن بتلا یا گیا، سبب موت بتلا یا گیا اور اس حادثہ کا وقوعہ ہیبت ناک طرز سے ظہور میں آنا بتلایا گیا۔ اس کا تمام نقشہ برکات الدعا کے مضمون میں کھینچ کر دکھلایا گیا۔ کیا یہ کسی منصوبہ باز کا کام ہو سکتا ہے کہ چھ برس پہلے ایسے صریح نشانوں کے ساتھ خبر دیدے اور وہ خبر پوری ہو جائے۔ توریت گواہی دیتی ہے کہ جھوٹے نبی کی پیشگوئی کبھی پوری نہیں ہو سکتی۔ خدا اس کے مقابل پر کھڑا ہو جاتا ہے تا دنیا تباہ نہ ہو جیسا کہ لیکھرام نے بھی ایک دنیوی چالاکی سے انہیں دنوں میں میری نسبت یہ اشتہار دیا تھا کہ تم تین برس کے عرصہ تک مرجاؤ گے۔ پس کیوں وہ کسی قاتل سے سازش نہ کر سکا تا اس کی بات پوری ہوتی۔ ایک اور بات سوچنے کے لائق ہے کہ یہ بدگمانی کہ ان کے کسی مرید نے ماردیا ہوگا یہ شیطانی خیال ہے۔ ہر یک دانا سمجھ سکتا ہے کہ مریدوں کا مرشد کے ساتھ ایک نازک تعلق ہوتا ہے اور اعتقاد کی بنا تقویٰ اور طہارت اور نیکوکاری پر ہوتی ہے۔ لوگ جو سی کے مرید ہوتے ہیں وہ اسی نیت سے مرید ہوتے ہیں کہ وہ سمجھ لیتے ہیں کہ یہ شخص باخدا ہے اس کے دل میں کوئی فریب اور فساد کی بات نہیں۔ ﴿۲۲﴾ پس اگر وہ ایک ایسا بد کار اور لعنتی شخص ہے کہ کسی کی موت کی جھوٹی پیشگوئی اپنی طرف سے بناتا ہے اور پھر جب اس کی میعاد ختم ہونے پر ہوتی ہے تو کسی مرید کے آگے ہاتھ جوڑتا ہے کہ اب میری عزت