سراجِ منیر — Page 7
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۹ سراج منیر قبر میں پہنچ گیا۔ وہ نالش کرنے سے بھی ڈرا ۔ اور جب عیسائیوں نے اس پر زور دیا تو اس نے کانوں پر ہاتھ رکھ لیا تو کیا ابھی تک ثابت نہ ہوا کہ وہ اپنے مقابلہ کو خلاف حق جانتا تھا۔ اور دل میں خوف بھرا ہوا تھا۔ مگر پھر بھی اخفائے حق کی وجہ سے خدا نے اس کو نہ چھوڑا اور خدا کے وعدہ کے موافق 2 ☆ اور ٹھیک ٹھیک اس کے الہام کے منشاء کے مطابق وہ مر گیا۔ اور مولویوں اور عیسائیوں کا منہ سیاہ کر گیا۔ وہ مجھ سے عمر میں بجز چند سال کچھ زیادہ نہ تھا۔ سعد اللہ نومسلم کی بدذاتی ہے کہ اس کو پیر فرتوت قرار دیتا ہے۔ یہ یہودی چاہتا ہے کہ کسی طرح پیشگوئی مخفی ہو جائے ۔ سواے مخالفو ! بے حیائی سے جس قدر چاہوا نکار کرو ۔مگر حقیقت کھل گئی اور عقلمندوں نے سمجھ لیا ہے کہ پیشگوئی نہ ایک پہلو سے بلکہ چار پہلو سے پوری ہوگئی ہیں آتھم کو اس رجوع اور خوف کا فائدہ دیا گیا جو اس سے ظہور میں آیا جیسا کہ الہامی شرط تھی اور پیشگوئی کا ایک جزو تھا۔ اور یہ رجوع پیشگوئی کو سنتے ہی اس میں پیدا ہو گیا تھا کیونکہ وہ اسلامی مرتد تھا۔ اور یسوع کی خدائی کے بارے میں خود ہمیشہ کھٹکے میں رہتا تھا اور تاویلیں کیا کرتا تھا اور مجھ پر ابتداء سے اس کو نیک نظن تھا کیونکہ وہ اس ضلع میں رہ کر میرے ابتدائی حالات سے خوب واقف تھا۔ یہ مکن نہ تھا کہ وہ مجھے جھوٹا سمجھتا اسی وجہ سے پیشگوئی کے سنانے کے وقت اس کا رنگ زرد ہو گیا تھا اور اس کی حالت متغیر ہو گئی تھی۔ اور جب میں نے کہا کہ تم نے اپنی کتاب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دجال کہا ہے یہ اس کی سزا ہے جو تم کو ملے گی ۔ تو اس کے منہ پر ہوائیاں اڑنے لگیں اور دونوں ہاتھ اس نے اپنے کانوں پر رکھے گویا وہ اس وقت تو بہ کر رہا تھا۔ میرے خیال میں ہے کہ اس وقت ستر آدمی کے قریب اس جلسہ نصاریٰ میں ہوں گے۔ غرض اس کا رجوع نہ دیر کے بعد بلکہ اسی دم سے شروع ہو گیا تھا۔ اور اخیر میعاد تک اس نے دیوانوں کی طرح دنوں کو بسر کیا۔ (1) ایک پہلو یہ کہ جو الہام میں شرط تھی اس شرط کی پابندی سے آتھم کی موت میں تاخیر ہوئی ۔ (۲) دوم یہ کہ آتھم اخفاء شہادت سے موافق الہام جلد فوت ہو گیا۔ (۳) سوم یہ کہ عیسائیوں کے مکر اور مولویوں کی باہمی سازش سے براہین احمدیہ کی پیشگوئی صفحہ ۲۴ پوری ہو گئی ۔ (۴) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی جو عیسائیوں اور مسلمانوں کے جھگڑے کے بارے میں تھی وہ بھی اس سے پوری ہوگئی۔ منہ