سراجِ منیر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxiii of 494

سراجِ منیر — Page xxiii

سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب مسٹر سراج الدین صاحب پروفیسر ایف۔سی۔کالج لاہور پہلے تو مسلمان تھے پھر پادریوں سے میل جول اور اُن کے اعتراضات سے متائثر ہو کر عیسائی ہو گئے تھے مگر جب وہ ۱۸۹۷ ؁ء میں قادیان پہنچے اور چند روز حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی صحبت میں رہے اور عیسائیت اور اسلام سے متعلق مختلف مسائل پر آپ سے گفتگو کی تو پھر اسلام کی فضیلت کے قائل ہو گئے۔اور نماز بھی پڑھنے لگے لیکن جب لاہور واپس گئے تو دوبارہ پادریوں کے دام میں پھنس گئے اور پھر عیسائیت اختیار کر کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں چار سوالات بغرض جو اب ارسال کر دیئے۔حضرت اقدس علیہ السلام نے ان کے جوابات لکھ کر اور اُن کا نام’’سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب‘‘ رکھ کر انہیں افادۂ عام کے خیال سے ۲۲؍ جون ۱۸۹۷ ؁ء کو رسالہ کی صورت میں شائع کر دیا۔سال ۱۸۹۷ء کی ایک امتیازی خصوصیّت ۱۸۹۷ ؁ء کا سال جس میں یہ کتاب ’’سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب‘‘ لکھی گئی۔اسلام اور عیسائیت کے مقابلہ کے لحاظ سے ایک تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔۱۸۹۷ ؁ء میں عیسائیت اپنے کمال عروج پر تھی۔چنانچہ امریکہ کے ڈاکٹری جان ہنری بیروز نے ۱۸۹۶ ؁ء۔۱۸۹۷ ؁ء میں ہندوستان کے مختلف مقامات پر لیکچر دیئے جو کرسچن لٹریچر سوسائٹی فار انڈین مدراس نے ۱۸۹۷ ؁ء میں کتابی صورت میں شائع کئے۔ایک لیکچر میں ڈاکٹر مذکور نے عیسائیت کے غلبہ اور استیلاء کا ذکر کرتے ہوئے فخریہ انداز میں اعلان کیا:۔’’آسمانی بادشاہت پورے کرّۂ ارض پر محیط ہوتی جا رہی ہے۔آج دنیا بھر میں اخلاقی اور فوجی طاقت، علم و فضل، صنعت و حرفت اور تمام تر تجارت اُن اقوام کے ہاتھ میں ہے جو آسمانی ابوت اور انسانی اخوت کی مسیحی تعلیم پر ایمان رکھتے ہوئے یسوع مسیح کو اپنا نجات دہندہ تسلیم کرتی ہیں۔‘‘ (بیروز لیکچرز صفحہ ۱۹) آگے چل کے ایک برطانوی ادیب کے حوالہ سے عیسائیت کے غلبہ واستیلاء کا نقشہ فخریہ انداز اور تعلّی آمیز الفاظ میں کھینچتے ہوئے کہا ہے:۔