سراجِ منیر — Page xx
گئی ہے۔اور اس پیشگوئی کے تمام پہلوؤں پر روشنی ڈال کر اہل الرائے اور اہلِ نظر اصحاب سے یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ الہامات کو پڑھ کر یہ گواہی دیں کہ جو پیشگوئی لیکھرام کی موت کے بارہ میں کی گئی تھی وہ واقعی طور پر پوری ہوئی یا نہیں۔اِس رسالہ کے پڑھنے سے ہر منصف مزاج انسان کو یہ یقینی علم حاصل ہو جاتا ہے کہ فی الحقیقت خدا تعالیٰ موجود ہے۔اور وہ قبل از وقت اپنے خاص بندوں پر غیب کی باتیں ظاہر کیا کرتا ہے۔حجۃ اﷲ اِس کتاب کے لکھنے سے پہلے مولوی عبدالحق صاحب غزنوی نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خلاف ایک نہایت گندہ اشتہار شائع کیا۔اور آپ کی عربی دانی پر معترض ہوا۔اور اپنی قابلیت جتانے کے لئے عربی زبان میں مباحثہ کرنے کی آپؑ کو دعوت دی۔اِس دعوت کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے منظور فرماتے ہوئے یہ شرط لگائی کہ چونکہ آپ کے نزدیک میں عربی نہیں جانتا اور محض جاہل ہوں۔اس لئے اگر آپ مقابلہ کے وقت مجھ سے شکست کھا گئے تو آپ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے اِسے ایک معجزہ سمجھ کر فی الفور میری بیعت میں داخل ہونا ہو گا لیکن جب مولوی غزنوی نے کوئی جواب نہ دیا اور نہ اس کا ساتھی شیخ نجفی کچھ بولا۔تو آپ نے مولوی غزنوی اور شیخ نجفی کو مخاطب کر کے یہ رسالہ فصیح و بلیغ عربی میں ۱۷؍ مارچ ۱۸۹۷ ء کو لکھنا شروع کیا اور ۲۶؍ مئی ۱۸۹۷ ء کو مکمل کر دیا۔اِس رسالہ میں جو اسرارِ ربانیہ اور محاسنِ ادبیہ پر مشتمل ہے آپؑ نے مکفّرین علماء پر حجت قائم کرنے کے لئے نجفی اور غزنوی کے علاوہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو بھی ان الفاظ میں دعوتِ مقابلہ دی کہ اگر وہ تین چار ماہ تک ایسی کتاب پیش کردیں تو اس سے میرا جھوٹا ہونا ثابت ہو جائے گا بے شک وہ جن ادباء سے مدد لینا چاہیں لے لیں اگر وہ اس رسالہ کی نظیر حجم و ضخامت اور نظم و نثر کے موافق شائع کر دیں اور پروفیسر مولوی عبداﷲ یا کوئی اَور پروفیسر حلف مؤکد بعذاب اُٹھا کر اُن کے تحریر کردہ رسالہ کو میرے رسالہ کے برابر یا اعلیٰ قرار دیں اور پھر قسم کھانے والا میری دُعا کے بعد اکتالیس۴۱ دن تک عذاب الٰہی میں ماخود نہ ہو تو مَیں اپنی کتابیں جو اس وقت میرے قبضہ میں ہوں گی جلا کر اُن کے ہاتھ پر توبہ کروں گا۔اور اِس طریق سے روز روز کا جھگڑا طے ہو جائے گا اور اس کے بعد جو شخص مقابلہ پر نہ آیا تو پبلک کو سمجھنا چاہئے کہ وہ جھوٹا ہے۔