سراجِ منیر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 81 of 494

سراجِ منیر — Page 81

۸۳ روحانی خزائن جلد ۱۲ سراج منیر اس کا خدا ہو گا اور جھوٹے خدا سب اس کے پیروں کے نیچے کچلے اور روندے جائیں گے وہ ہر ایک جگہ مبارک ہوگا اور الہی قوتیں اس کے ساتھ ہوں گی ۔ وَالسَّلام عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى اب ہم اس رسالہ کو اس وصیت پر ختم کرتے ہیں کہ اے سچائی کے طالبوسچائی کو ڈھونڈو کہ اب آسمان کے دروازے کھلے ہیں۔ اور اے ہماری قوم کے نادان و مولو یو یہ وہی خدا کے دن ہیں جن کا وعدہ تھا سو آنکھیں کھولو اور دیکھو کہ زمین پر کیا ہورہا ہے اور کیسے سچائی کے بادشاہ مقدس رسول کو پیروں کے نیچے کچلا جاتا ہے کیا اس پاک نبی کی تو ہین میں کچھ کسر رہ گئی کیا ضرور نہ تھا کہ زمین کے اس طوفان کے وقت آسمان پر کچھ ظاہر ہوتا ۔ سو اس لئے خدا نے ایک بندہ کو اپنے بندوں میں سے چن لیا تا اپنی قدرتیں دکھلاوے اور اپنی ہستی کا ثبوت دے اور وہ جو سچائی سے ٹھٹھے کرتے اور جھوٹ سے محبت رکھتے ہیں ان کو جتلا وے کہ میں ہوں اور سچائی کا حامی ہوں۔ اگر وہ ایسے فتنہ کے وقت میں اپنا چہرہ نہ دکھلاتا تو دنیا گمراہی میں ڈوب جاتی اور ہر ایک نفس دہر یہ اور ملحد ہو کر مرتا۔ یہ خدا کا فضل ہے کہ انسانی کشتی کو عین وقت میں اس نے تھام لیا یہ چودھویں صدی کیا تھی چودھویں رات کا چاند تھا جس میں خدا نے اپنے نور کو چادر کی طرح زمین پر پھیلا دیا۔ اب کیا تم خدا سے لڑو گے کیا فولادی قلعہ سے اپنا سر ٹکراؤ گے کچھ شرم کرو اور سچائی کے آگے مت کھڑے ہو ۔ خدا نے دیکھا ہے کہ زمین بدعت اور شرک اور بدکاریوں سے جل گئی ہے اور نجاست کو پسند کیا جاتا ہے اور سچائی کو رد کیا جاتا ہے سو اس نے جیسا کہ اس کی قدیم سے عادت ہے دنیا کی اصلاح کے لئے توجہ کی کیونکہ سچی تبدیلی آسمان سے ہوتی ہے نہ زمین سے اور سچا ایمان اوپر سے ملتا ہے نہ نیچے سے۔ اس لئے اس رحیم خدا نے چاہا کہ ایمان کو تازہ کرے اور ان لوگوں کے لئے جن کو اشتہاروں کے ذریعہ سے بلایا گیا ہے یا آئندہ بلایا جائے ایسا نشان دکھلائے۔ اور مجھے میرے خدا نے مخاطب کر کے فرمایا ہے۔ ۷۴ ہے الأَرْضُ وَالسَّمَاءُ مَعَكَ كَمَا هُوَ مَعِي - قُلْ لَى الأَرْضُ وَالسَّمَاء۔ قُلْ لى سلامٌ في مَقْعَدِ صِدْقٍ عِندَ مَلِيبٍ مُّقْتَدِرُ۔ إنّ الله مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوا والذِينَ اس زمانہ کے مولویوں کی نسبت میں وہی کہتا ہوں جو آثار میں پہلے سے کہا گیا ہے۔ منہ نوٹ : ضمیر ھو اس تاویل سے ہے کہ اس کا مرجع مخلوق ہے۔ منہ