سراجِ منیر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 82 of 494

سراجِ منیر — Page 82

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۸۴ سراج منیر هُم مُّحْسِنُون يَأْتِي نَصْرُ الله۔ إِنَّا سَتُنذِرُ العَالم كُلَّهُ۔ انا سَتَنزِلُ أَنَا اللهُ لا إله إِلَّا أَنَا یعنی آسمان اور زمین تیرے ساتھ ہے جیسا کہ وہ میرے ساتھ ہے ۔ کہہ آسمان اور زمین میرے لئے ہے۔ کہہ میرے لئے سلامتی ہے۔ وہ سلامتی جو خدا قادر کی حضور میں سچائی کی نشست گاہ میں ہے۔ خدا ان کے ساتھ ہے جو اس سے ڈرتے ہیں اور جن کا اصول یہ ہے کہ خلق اللہ سے نیکی کرتے رہیں۔ خدا کی مدد آتی ہے۔ ہم تمام دنیا کو متنبہ کریں گے ۔ ہم زمین پر اتریں گے۔ میں ہی کامل اور سچا خدا ہوں میرے سوا اور کوئی نہیں۔ ان الہامات میں نصرت الہی کے پُر زور وعدے ہیں مگر یہ تمام مدد آسمانی نشانوں کے ساتھ ہوگی وہ لوگ ظالم اور نا سمجھ اور بیوقوف ہیں جو ایسا خیال کرتے ہیں کہ مسیح موعود اور مہدی موعود تلوار لے کر آئے گا۔ نبوت کے نوشتے پکار پکار کر کہتے ہیں کہ اس زمانہ میں تلواروں سے نہیں بلکہ آسمانی نشانوں سے دلوں کو فتح کیا جائے گا اور پہلے بھی تلوار اٹھانا خدا کا مقصد نہ تھا بلکہ جنہوں نے تلواریں اٹھا ئیں وہ تلواروں سے ہی مارے گئے ۔ غرض یہ آسمانی نشانوں کا زمانہ ہے خونریزیوں کا زمانہ نہیں۔ احمقوں نے بری تاویلیں کر کے خدا کی پاک شریعت کو بُری شکلوں میں دکھایا ہے۔ آسمانی قو تیں جس قد را اسلام میں ہیں کسی دین میں نہیں ہوئیں اسلام تلوار کا محتاج ہر گز نہیں۔ الراقم میرزا غلام احمد قادیانی ۲۳ ذی القعده سنة ۱۳۱۴ھ نظم منشی گلاب الدین صاحب رہتاسی اللہ اللہ صدی چودھویں کا جاہ و جلال رحمت حق سے ملا ہے اسے کیا فضل و کمال جس میں مامور من اللہ ہوا ایک بندہ حق تا کہ اسلام کی رونق کو کرے پھر وہ بحال جس کے آنے کی خبر مخبر صادق نے تھی دی آسماں پر سے اتر آیا وہ صاحب اقبال (۷۵) قادیان جائے قیام اس کا غلام احمد نام جھاڑے اسلام نے پھر جس کے سبب سے پر وبال دین کی تجدید لگی ہونے بصد شدومد دیکھو جس شخص کو کرتا ہے یہی قیل و قال بھو کے نورانی غذاؤں سے لگے ہونے سیر پیاسے برکات کی بارش سے ہوئے مالا مال