سراجِ منیر — Page 78
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۸۰ سراج منیر ۳۴ چونتیسویں پیشگوئی۔ یہ پیشگوئی کتاب براہین احمدیہ کے ص ۵۲۱ میں درج ہے اور وہ یہ ہے وہ تجھے بہت برکت دے گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے اور اسی کے متعلق ایک کشف ہے اور وہ یہ ہے کہ عالم کشف میں میں نے دیکھا کہ زمین نے مجھ سے گفتگو کی اور کہا يَا وَلِيُّ اللهِ كُنتُ لَا أَعْرِفُک یعنی اے خدا کے ولی میں تجھ کو پہچانتی نہ تھی ۔ پینتیسویں پیشگوئی ۔ شیخ محمد حسین بٹالوی صاحب رسالہ اشاعت السنہ جو بانی مبانی تکفیر ہے اور جس کی گردن پر نذیر حسین دہلوی کے بعد تمام مکفر وں کے گناہ کا بوجھ ہے اور جس کے آثار بظا ہر نہایت ردی اور یاس کی حالت کے ہیں اس کی نسبت تین مرتبہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ وہ اپنی اس حالت پر ضلالت سے رجوع کرے گا اور پھر خدا اس کی آنکھیں کھولے گا ۔ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ۔ اور ایک مرتبہ میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا میں محمد حسین کے مکان پر گیا ہوں اور میرے ساتھ ایک جماعت ہے اور ہم نے وہیں نماز پڑھی اور میں نے امامت کرائی اور مجھے خیال گذرا کہ مجھ سے نماز میں یہ غلطی ہوئی ہے کہ میں نے ظہر یا عصر کی نماز میں سورہ فاتحہ کو بلند آواز سے پڑھنا شروع کر دیا تھا پھر مجھے معلوم ہوا کہ میں نے سورہ فاتحہ بلند آواز سے نہیں پڑھی بلکہ صرف تکبیر بلند ا آواز سے کہی پھر جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ محمد حسین ہمارے مقابل پر بیٹھا ہے اور اس وقت مجھے اس کا سیاہ رنگ معلوم ہوتا ہے اور بالکل برہنہ ہے پس مجھے شرم آئی کہ میں اس کی طرف نظر کروں پس اسی حال میں وہ میرے پاس آ گیا۔ میں نے اسے کہا کہ کیا وقت نہیں آیا کہ تو صلح کرے اور کیا تو چاہتا ہے کہ تجھ سے صلح کی جائے اس نے کہا کہ ہاں پس وہ بہت نزدیک آیا اور بغل گیر ہوا اور وہ اس وقت چھوٹے بچہ کی طرح تھا پھر میں نے کہا کہ اگر تو چاہے تو ان باتوں سے در گزر کر جو میں نے تیرے حق میں کہیں جن سے تجھے دکھ پہنچا اور خوب یا درکھ کہ میں نے کچھ نہیں کہا مگر صحت نیت سے اور ہم ڈرتے ہیں خدا کے اس بھاری دن سے جبکہ ہم اس کے سامنے کھڑے ہوں گے اس نے کہا کہ میں نے درگذر کی تب میں نے کہا کہ گواہ رہ کہ میں نے