سراجِ منیر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 72 of 494

سراجِ منیر — Page 72

۷۴ سراج منیر روحانی خزائن جلد ۱۲ چوبیسوائیں پیشگوئی یہ پیشگوئی براہین کے ص ۲۸۹ میں ہے اور وہ یہ ہے انت وجيه في ☆ حضرتی اخترتک لنفسي۔ انت بمنزلة توحيدي و تفریدی فحان ان تعان و | تعرف بين الناس یعنی تو میری جناب میں وجیہ ہے میں نے تجھے چن لیا۔ تو مجھ سے ایسا ہے جیسے میری توحید اور تفرید ۔ پس وہ وقت آ گیا جو تیری مدد کی جائے گی اور تو لوگوں میں مشہور کیا جائے گا۔ یہ اس وقت کی پیشگوئی ہے کہ اس چھوٹے سے گاؤں میں بھی بہتیرے ایسے تھے جو مجھ سے نا واقف تھے۔ اور اب جو اس پیشگوئی پر ۷ ابرس گزر گئے تو پیشگوئی کے مفہوم کے مطابق اس عاجز کی شہرت اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ اس ملک کے غیر قوموں کے بچے اور عور تیں بھی اس عاجز سے بے خبر نہیں ہوں گی جس شخص کو ان دونوں زمانوں کی خبر ہوگی کہ وہ وقت کیا تھا اور اب کیا ہے تو بلا اختیار اس کی روح بول اٹھے گی کہ یہ عظیم الشان علم غیب انسانی طاقتوں سے ایسا بعید ہے کہ جیسا کہ ایک مکھی کی طاقت سے ایک قوی ہیکل ہاتھی کا کام۔ پچیسویں پیشگوئی یہ پیشگوئی براہین احمدیہ کے صفحہ ۴۹۰ میں موجود ہے اور وہ یہ ہے۔ سبحان الله تبارک و تعالی زاد مجدک ینقطع اباء ک و یبدء منک ۔ ترجمہ۔ پاک ہے وہ خدا جو مبارک اور بلند ہے ۔ تیری بزرگی کو اس نے زیادہ کیا۔ اب یوں ہوگا کہ تیرے باپ دادا کا نام منقطع ہو جائے گا اور ان کا ذکر مستقل طور پر کوئی نہیں کرے گا اور خدا تیرے وجود کو تیرے خاندان کی بنیاد ٹھیرائے گا۔ اس پیشگوئی میں دو وعدے ہیں (۱) اول یہ کہ خدا لائق اور اچھی اولا د اس خاندان میں پیدا کرے گا ۔ اور دوسرے یہ کہ تمام شرف اور مسجد کا ابتدا اس عاجز کو ٹھیرا دیا جائے گا اور وہ پیشگوئی جو ایک مبارک لڑکے کے لئے کی گئی تھی وہ الہام بھی درحقیقت اسی الہام کا ایک شعبہ ہے ۔ اس وقت نادانوں نے شور مچایا تھا کہ پیشگوئی کے قریب زمانہ میں لڑکا پیدا نہیں ہوا بلکہ لڑکی پیدا ہوئی۔ یہ تمام شور اس لئے تھا کہ یہ نادان خیال کرتے تھے کہ پیشگوئی ا سہو کتابت معلوم ہوتا ہے" انت منی بمنزلة “ ہونا چاہیے۔(ناشر) نوٹ: اس خاکسار سراج الحق جمالی نے خدا کے فضل سے دونوں زمانے دیکھے اور ایمان میں ترقی ہوئی اور خدا سے دعا ہے کہ آگے کو پورا کمال اور ترقی اس امام برحق اور معصوم کی دکھلائے اور اس صادق کی معیت میں رکھ کر ایمان کو بڑھائے ۔ (جمالی )