سراجِ منیر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 73 of 494

سراجِ منیر — Page 73

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۷۵ سراج منیر کا بلا فاصلہ پوری ہونا ضروری ہے اور الہامات میں خدا تعالیٰ کی یہ غرض نہیں ہوتی بلکہ اگر ہزار لڑکی پیدا ہو کر بھی پھر ان صفات کا لڑکا پیدا ہوا تو بھی کہا جائے گا کہ پیشگوئی پوری ہوئی۔ ہاں اگر الہام الہی میں بلا فاصلہ کا لفظ موجود ہوتا تو تب اس لفظ کی رعایت سے پیشگوئی کا ظہور میں آنا ضروری ہوتا ۔ ☆ چھبیسویں پیشگوئی۔ چھبیسویں پیشگوئی براہین احمدیہ کے ص ۴۹۱ میں یہ ہے۔وما كان الله ليترك حتى يـمـيـز الخبيث من الطيب والله غالب على امره ولكن اكثر الناس لا يعلمون ۔ ترجمہ۔ خدا تجھے نہیں چھوڑے گا جب تک پاک اور پلیدی میں فرق نہ کر لے اور خدا اپنے امر پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ ستائیسویں پیشگوئی۔ یہ پیشگوئی براہین احمدیہ کے ص ۴۹۲ میں ہے اور وہ یہ ہے اردت ان استخلف فخلقت آدم یعنی میں نے خلیفہ بنانے کا ارادہ کیا سو میں نے آدم کو پیدا کیا۔ اور دوسرے مقام میں اس کی تشریح میں یہ الہام ہے وقالوا أتجعل فيها من يفسد فيها قال انى اعلم ما لا تعلمون یعنی لوگوں نے کہا کہ کیا تو ایسے آدمی کو خلیفہ بناتا ہے جو زمین پر فساد برپا کرے گا۔ خدا نے کہا کہ میں اس میں وہ چیز جانتا ہوں جس کی تمہیں خبر نہیں جیسا کہ دوسرے (۲۶) الہام میں اسی براہین میں فرمایا ہے۔ انت منی بمنزلة لا يعلمها الخلق یعنی تو مجھ سے اس مقام پر ہے جس سے دنیا کو خبر نہیں۔ اب ظاہر ہے کہ یہ پیشگوئی تو سترہ سال سے براہین احمدیہ میں شائع ہو چکی اور جس فتنہ کی طرف یہ پیشگوئی اشارہ کرتی ہے وہ سالہا سال بعد میں ظہور میں آیا۔ چنانچہ مولویوں نے اس عاجز کو مفسد ٹھہرا یا کفر کے فتوے لکھے گئے نذیر حسین دہلوی نے ( عـلـيـه مـا يستحقه ) تکفیر کی بنیاد ڈالی اور محمد حسین بٹالوی نے کفار مکہ کی طرح یہ خدمت اپنے ذمہ لے کر تمام مشاہیر اور غیر مشاہیر سے کفر کے فتوے اس پر لکھوائے اور جیسا کہ الہام الہی سے ظاہر ہوتا ہے براہین احمدیہ میں پہلے سے خبر دی گئی تھی کہ ایسے فتوے لکھے جائیں گے۔ اور آثار نبویہ میں بھی ایسا ہی آیا تھا کہ اس مہدی موعود پر کفر کا فتویٰ لگایا جائے گا سو وہ سب لکھا ہوا پورا ہوا۔ حمد سہو کتابت معلوم ہوتا ہے' لیتر کک “ ہونا چاہیے۔(ناشر)