سراجِ منیر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 66 of 494

سراجِ منیر — Page 66

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۶۸ سراج منیر خدا کی گواہی لیکھرام کے مارے جانے کا نشان تھا جس نے مخالفوں کی کمر توڑ دی یہ پیشگوئی جن لوازم اور تصریحات کے ساتھ بیان کی گئی اور شائع کی گئی تھی وہ تمام لوازم ایسے تھے کہ کوئی دانا باور نہیں کرے گا کہ ان کا انجام دینا انسان کے حد اختیار میں ہو سکتا ہے کیونکہ ۵۹) اس میں میعاد بتلائی گئی تھی دن بتلایا گیا تھا * تاریخ بتلائی گئی تھی وقت بتلایا گیا اور ۶۰ ۵۹ حاشیہ۔ خروج باب ۳۲ سے ثابت ہوتا ہے کہ گوسالہ سامری کے نیست و نابود کرنے کا ارادہ یہود کی عید کے دن میں کیا گیا تھا مگر آگ میں جلانا اور باریک پینا اور غبار کی مانند بنانا جیسا کہ خروج میں لکھا ہے یہ فرصت طلب کام تھا اس برے کام نے ضرور رات کا کچھ حصہ لیا ہوگا کیونکہ حضرت موسیٰ اس وقت اترے تھے جب گوسالہ پرستی کا میلہ خوب گرم ہو گیا تھا اور یہ وقت غالباً دو پہر کے بعد میں ہوگا اور پھر کچھ عرصہ ناراضگی اور غضب میں گذرا۔ لہذا یہ قطعی امر ہے کہ سونے کا جلانا اور خاک کی طرح کرنا کچھ حصہ رات تک جو دوسرے دن میں محسوب ہوتے ہی ختم ہوا ہوگا۔ سوخدا تعالیٰ نے جو لکھر ام کے لئے گوسالہ سامری کا نام اختیار فرمایا۔ اس نام میں یہ بھید پوشیدہ تھا کہ عید کے دوسرے دن میں اس کی تباہی کا سامان ہوگا جیسا کہ گوسالہ سامری کا ہوا۔ اور چونکہ گوسالہ پر اکثر چھری پھرتی ہے اس لئے معجل کے لفظ میں بھی جو الہام میں اختیار کیا گیا ہے یہ طریق موت مخفی ہے اور لیکھرام کی موت کی نسبت جو یہ پیشگوئی ہے کہ وہ عید کے دوسرے دن قتل کیا جائے گا۔ اس میں الہام الہی وہ ہے کہ جو کتاب کرامات الصادقین کے ص ۵۴ میں لکھا ہوا ہے یعنی ستعرف يوم العيد والعيد اقرب اس کے پہلے کا شعریہ ہے الا اننی فی کل حرب غالب فكدنى بمازوّرت فالحق یغلب یعنی میں ہر ایک جنگ میں غالب ہوں پس دروغ آرائی سے جس طرح چاہے مکر کر پس حق غالب ہو جائے گا اور پھر دوسرے شعر میں اس شعر کی تشریح کی کہ حق کیونکر غالب ہوگا اور وہ یہ ہے و بشرنی ربی و قال مبشرا - ستعرف يوم العيد والعيد اقرب یعنی میرے رب نے مجھے بشارت دی اور بشارت دے کر کہا کہ تو عنقریب عید کے دن کو یعنی خوشی کے دن کو پہچان لے گا اور اس دن سے معمولی عید بہت قریب ہوگی یعنی حق کے غالب ہونے کا وہ دن ہو گا۔ اس لئے مومنوں کی وہ عید ہوگی اور معمولی عید اس سے ملی ہوئی ہوگی اور اسی شعر کی تشریح ٹائٹل پیج یعنی سرورق کے صفحہ اخیر اسی کتاب کرامات الصادقین میں لکھی ہوئی ہے اور یہی لفظ بشرنی رہی جو اس شعر کے سر پر ہے وہاں بھی موجود ہے اور وہ یہ ہے۔ و بشرنی ربــى بــمــوتـــه فـي سـت سـنة ان فى ذالك لأية للطالبين یعنی خدا تعالیٰ نے مجھے بشارت دی