شحنۂِ حق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 446 of 548

شحنۂِ حق — Page 446

روحانی خزائن جلد ۲ ۴۳۲ شحنه حق ☆ آتے ہیں جس کو ویدانتی کہتے ہیں اس فرقہ کا یہی مذہب ہے کہ ہر یک روح پر میٹر سے ہی نکلا اور اس کے وجود کا ٹکڑا ہے اور پھر پر میشر میں ہی گم اور معدوم ۷۸ ہو جاتا ہے جیسے ایک قطرہ دریا میں گر کر اب اگرچہ آریوں کو باعث مخالفت اصول تناسخ اور بربادی بنیاد اواگون اور دوسری قباحتوں کے خیال سے اس ویدانتی مذہب کا تسلیم کرنا مناسب معلوم نہیں ہوتا مگر تا ہم وہ خوب جانتے ہیں کہ ویدانتیوں کے نزدیک روح کاملین کا اپنے تشخص سے معدوم ہو کر پر میشر کی جز تھا۔ بہر حال روح کے معدوم ہونے کے وہ بھی قائل ہوئے کیونکہ جو چیز اپنا تشخص چھوڑ دیتی ہے تو پھر اس کو موجود نہیں کہا جاتا ایسا ہی آریوں میں بعض ناستک مت والے بھی قدیم سے چلے آئے ہیں جن کے اب تک شاستر بھی موجود ہیں وہ بھی بالا تفاق یہی کہتے ہیں کہ موت کے ساتھ ہی روح معدوم ہو جاتی ہے اور کچھ نام و نشان باقی نہیں رہتا۔ اب اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ آریوں کا یہ اعتقاد کہ روح من حیث الذات اسی طرح واجب البقاء ہے جس طرح خدا تعالیٰ اور تمام مخلوق کی روح یہاں تک کہ وہ بے ثبات کیڑے جو ایک گندے پھل میں پڑ جاتے ہیں سب پر میشر کی طرح از لا و ابداً واجب الوجود ہیں۔ یہ ایک محض دعوئی ہے۔ جملہ فٹ نوٹ ہندوؤں کی اکثر معتبر کتابوں میں پایا جاتا ہے کہ ہر یک روح پر میشر سے نکلی اور پر میشر میں ہی نابود ہو جاتی ہے جیسا کہ ایک جگہ لکھا ہے کہ تمام جیو پر میٹر کے ہی نکلے ہیں اور انجام کار اسی میں محو ہو جانے والے ہیں۔ دیکھو بھا گوت گیتا ادھیا ۱۳ سے ۱۵ تک ۔ پھر لکھا ہے کہ پر میشر نے چاہا کہ ایک سے انیک ہو جائے تب اس نے تپسیا کر کے ہر یک چیز کو بنایا اور آپ جیو بن کر اس میں داخل ہوا وہ آپ ہی خالق اور آپ ہی مخلوق ہے وہی سچائی اور وہی جھوٹ ہے۔ تیترا برهمن صفر ۸۳۔ منه