شحنۂِ حق — Page 447
روحانی خزائن جلد ۲ ۴۳۳ شحنه حق جس کو آج تک کسی دلیل سے ثابت نہیں کیا گیا ۔ مسلمان ہرگز ایسا نہیں مانتے که روح من حیث الذات واجب البقا ہے اور نہ کسی حکیم نے بجز ایک شخص مردود القول کے کبھی ایسا خیال کیا ہے اگر ہم لوگ ایسا مانتے تو ہمیں بھی آریوں کی طرح تسلیم کرنا پڑتا کہ تمام کیڑوں مکوڑوں کی روح ابدی ہیں اور ہمیشہ رہنے والی ہیں لیکن نہ ہمارا اور نہ جمہوری حکماء کا یہ مذہب ہے ہاں ہم یہ کہتے ہیں که بغیر کسی ذاتی وجوب کے خاص ربانی عطا نے انسانی روح کو تعتبد ابدی کی مصلحت سے خلعت دائمی بقا کا بخشا ہے مگر یہ بقا حکمی ہے جو خاص انسان کے لئے تجویز کیا گیا۔ اگر وجوب ذاتی کے طور پر ہوتا تو کیڑوں مکوڑوں کی روح نے کیا گنہ کیا تھا جو اس وجوب سے مستثنیٰ رکھے گئے ۔ آخر وہ بھی تو روح ہی ہیں جیسے انسان کی روح ۔ اب جبکہ اس تقریرہ سے ثابت و ظاہر ہو گیا کہ روح کا بحیثیت روح ہونے کے خدائے تعالیٰ کی طرح عموماً و کلیتًا واجب البقا ہونا یہ صرف آریوں کا دعوی ہے جس سے جمہوری رائے تمام حکماء و متقدمین و متأخرین کی مخالفت رکھتی ہے تو اس بے اصل و بے ثبوت دعوے کو بطور دلیل کے سمجھ لینا ایسی ہی عقل کا کام ہے جو لیکھرام کی کھو پری میں ہے ۔ بالآخر ہم اس شخص کی کتاب تکذیب براہین احمدیہ کے دیکھنے والوں کو محض خیر خواہی کی راہ سے مطلع کرتے ہیں اور خدا وند کریم واحد شاہد ہے کہ ہم سچ اور بالکل سچ کہتے ہیں کہ یہ شخص علم میں وغیرہ علوم سے بالکل جاہل اور نہایت نبی طبع اور نادان محض ہے ۔ ہاں گالیاں دینے اور بہتان لگانے اور گند بولنے میں چوہڑوں اور ساہنسیوں سے بھی بڑھ کر ہے پادریوں اور اندرمن سہو کتابت معلوم ہوتا ہے” علم دین ہونا چاہیے۔(ناشر)