شحنۂِ حق — Page 442
روحانی خزائن جلد ۴۲۸ شحنه حق کے پرمیشر پن کی بکلی بیخ کنی کرتا ہے کیونکہ جس حالت میں ان کا قول ہے کہ تمام روحیں اور ذرہ ذرہ عالم کا خود بخود ہے جو قدیم سے خود بخود چلا آتا ہے تو اس صورت میں ضرور یہ اعتراض ہو گا کہ ان چیزوں پر ان کے پر میٹر کا قبضہ کس قسم کا ہے آیا کسی استحقاق کی وجہ سے یا جبر کے طور پر ۔ اگر کوئی استحقاق ہے تو ظاہر ہے کہ وہ خالقیت کا ۷۵ استحقاق ہو گا لیکن خالقیت کے تو آریہ قائل ہی نہیں تو پھر دوسری بات ماننی پڑی کہ جبر کے طور پر قبضہ ہے یعنی اس بات کا قائل ہونا پڑا کہ پر میشر اپنی زیادت طاقت کی وجہ سے کم طاقتوں پر غالب آ گیا۔ پھر جس کنوئیں یا خندق میں چاہا ڈالتا رہا۔ اب ظاہر ہے کہ محض جبر بلا استحقاق وہ چیز ہے جس کو دوسرے لفظوں میں ظلم کہتے ہیں۔ تو اس سے ظاہر ہوا کہ آریوں کے نزدیک پر میشر سخت ظالم ہے جس نے بغیر ذاتی استحقاق کے خواہ نخواہ کروڑ ہا برسوں سے تناسخ کی گردش میں انہیں ڈال رکھا ہے اور گنہ یہی کہ تم میری کیوں اطاعت نہیں کرتے ۔ بھلا تیری کیوں اطاعت کریں تو ہے کون اور تیرا استحقاق کیا ہے۔ کیا تو نے پیدا کیا یا بغیر گزشتہ کرموں کے اپنی طرف سے کچھ رحم یا کرم کر سکتا ہے یا ہمیشہ کے لئے دنیا کی بلاؤں سے چھوڑ سکتا ہے آخر تو کون سی چیز اپنی گرہ سے دے سکتا ہے تا تیری اطاعت کی جائے ۔ اب خیال کرنا چاہیے کہ بجز اس صورت کے کہ خدائے تعالیٰ کو اپنا خالق اور اپنا رب اور اپنا مبدء فیوض مان لیا جائے کوئی اور بھی صورت ہے جس سے اس کا استحقاق مالکیت قائم و ثابت ہو سکے اگر کسی آریہ کے ذہن میں ہے تو پیش کرے۔ تم سوچ کر دیکھ لو کہ خدا تعالیٰ جو ہمارا خدا کہلاتا ہے اس کی خدائی کی اصل حقیقت ہی یہی ہے کہ وہ ایک