شحنۂِ حق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 427 of 548

شحنۂِ حق — Page 427

روحانی خزائن جلد ۲ ۴۱۳ یہاں دیوتاؤں کو لا ۔ دیکھو وہی اشتک انو کا ۴ سکت ۳۔ شحنه حق اس شرتی میں شاعر نے آگ کے تیز شعلوں کو گھوڑیوں کی شکل پر تصور کر لیا ہے اور آگ کی صورت مجموعی کو جو ا فر وختہ ہو رہی ہے ایک رتھ قرار دے لیا ہے اور مدعا اس کا یہ ہے کہ اس آگ سے بخار اٹھیں گے اور ہوا وغیرہ میں پہنچیں گے جیسا کہ وہ ایک دوسری شرقی میں لکھتا ہے جس کا یہی انو کا اور یہی سکت ہے ۔ اے اگنی تو اندر وایو پر سپتی متر پشان بھاگا ادتیاون اور مروت کے گروہ کو نذر پیش کر ۔ اندر کرہ زمہریر کا نام وایو ہوا کا نام اور باقی چاروں برسات کے مہینوں کے نام ہیں اور مروت مہینہ کی ہوائیں ہیں شاعر نے ان سب کو دیوتا مقرر کر دیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اوّل حرارت سے ہی بخارات اٹھتے ہیں تو گویا اگنی بخارات کو اٹھا کر پھر انہیں اندر وغیرہ کو وہ نذر پیش کرتی ہے تمام وید میں یہی جھگڑا بار بار ذکر کیا گیا ہے کہ پہلے پہل بخارات ہوا میں مل کر اندر کے پیٹ میں پڑتے ہیں جیسا کہ اسی اشتک انو کا ۳ سکت ایک میں لکھا ہے اندر کا شکم سوم کا رس کثرت سے پینے کے باعث سمندر کی مانند پھولتا ہے اور تالو کی نمی کی مانند ہمیشہ تر رہتا ہے ۔ انہیں کھانوں سے اندر کا پیٹ بھرتا ہے اور قوت حاصل ہوتی ہے ۔ اے خوب صورت زنخدان والے اندر ان تعریفوں سے خوش ہو ۔ اور پہلے بیان ہو چکا ہے کہ اندر کا ساقی اگنی ہی ہے اب ان تمام وجوہات سے ثابت ہوتا ہے کہ در حقیقت اگنی سے مراد آگ ہی ہے اور لفظ اگنی کے عام اور لغوی معنے آتش کے ہیں تمام مسلسل بیان رگ وید کا ا