شحنۂِ حق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 423 of 548

شحنۂِ حق — Page 423

روحانی خزائن جلد ۲ ۴۰۹ ہندوؤں کے ویدوں کی کچھ ماہیت اور ان کی تعلیم کا کسی قدر نمونه شحنه حق پروفیسر ولسن صاحب اپنے ترجمہ رگوید کے دیباچہ میں لکھتے ہیں کہ رگوید کے ایک سو اکیس منتروں میں سے جو اول اشتکا میں ہیں سینتیس صرف اگنی کی ہی تعریف میں ہیں یا اگنی کے ساتھ اور دیوتاؤں کی مہماان میں درج ہے اور پینتالیس منتروں میں اندر کی مہما برنن ہے اور منجملہ باقی منتروں کے باراں منتر مروت یعنی ہوا کے دیوتاؤں کی تعریف میں ہیں جو کہ اندر کے ہمرا ہی ہیں اور گیارہ اسونوں کی تعریف میں ہیں جو کہ سورج کے پوتر ہیں ۔ چار منتر صبح کے دیوتا کی تعریف میں ہیں اور چار وسو ید یوا کی تعریف میں جن کو سر بھو دیوتا بھی کہتے ہیں اور باقی منتروں میں ادنی دیوتاؤں کی مہما برنن ہے ۔ اس بیان سے صاف ہویدا ہے کہ اس زمانہ میں عناصر کی پرستش ہوتی تھی ۔ تم كلامه یہ پروفیسر ولسن صاحب مترجم دید کی رائے ہے جس کو انہوں نے اپنے تر جمہ رگ وید کے دیباچہ میں لکھا ہے ۔ اب ہم بطور نمونہ وہ چند شرتیاں رگ وید کی اس جگہ تحریر کرتے ہیں جن کی صحت کو ہم نے نہ صرف ایک کتاب سے بلکہ کئی وسائل سے اور کامل واقف کاروں کی شہادت سے بپا یہ ثبوت پہنچا لیا ہے پس اب آریوں کے لئے ہر گز یہ جائز نہیں ہوگا کہ صرف گردن ہلا کر ان شرتیوں