شحنۂِ حق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 418 of 548

شحنۂِ حق — Page 418

۵۹ روحانی خزائن جلد ۲ ۴۰۴ شحنه حق ترجمے قرآن اور وید کے انگلینڈ اور فرانس وغیرہ میں گئے آخران ثالثوں کی بھی رائے ہوئی کہ قرآن میں تو حید اور وید میں شرک بھرا ہوا ہے۔ اب ہم اپنی پہلی تقریر کی طرف رجوع کر کے کہتے ہیں کہ ہندوؤں کے لئے یہ نہایت دل توڑنے والا واقعہ اور سخت صدمہ اٹھانے کی جگہ ہے کہ وہ حقیقی علامتیں ربانی کتاب کی جن کا ابھی ہم ذکر کر آئے ہیں وید میں پائی نہیں جاتیں۔ (1) وید میں خدا تعالیٰ کی خوبیاں نہیں بلکہ اس کے نقص اور عیب بیان کئے ہیں کہ وہ ایک ذرہ کے پیدا کرنے پر بھی قادر نہیں کیونکہ اصل الاصول وید کا وجوب تناسخ ہے اور مسئلہ دائمی تناسخ کے وجوب کا تبھی قائم رہ سکتا ہے کہ جب ہر یک چیز کو پر میشر کی طرح غیر مخلوق سمجھا جائے اور نیز یہ بھی تسلیم کیا جائے کہ جاودانی مکتی پانے کا راہ مسدود ہے سو کسی چیز کے پیدا کرنے کی قدرت نہ رکھنا اور ہمیشہ کی مکتی دینے پر بھی قادر نہ ہونا یہ صریح اس ذات کا نقص اور عیب ہے جس کو تمام کائنات کا خدا اور پر میشر کہا جائے ۔ (۲) وید میں روحانی برکتیں اور پاک خاصیتیں بھی نہیں کیونکہ آریہ لوگ بلکہ تمام ہند و خود تسلیم کرتے ہیں کہ بجز وید کے رشیوں کے دوسروں پر حقیقی عرفان کا دروازہ بند ہے۔ حقیقی عرفان با تفاق جمیع عارفین اس معرفت تامہ کا نام ہے جو قال کو حال کے آئینہ میں دکھلاوے اور علم الیقین کو حق الیقین کے مرتبہ تک پہنچا وے یعنی جس گیان کو بچوں کی طرح کتاب میں پڑھا گیا ہے وہ خود اپنے نفس پر وار د بھی ہو جائے جیسا کہ کہا گیا ہے کہ کامل مرید وہ ہے کہ ہو بہو اپنے مرشد کا روپ بن جاوے اور جو کچھ اصلی اور تفصیلی طور پر مرشد پر فیض ہوا تھا