شحنۂِ حق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 416 of 548

شحنۂِ حق — Page 416

روحانی خزائن جلد ۲ ۴۰۲ شحنه حق ۵۷ مگر اب گائے کے ذبح کرنے سے بڑھ کر ہندوؤں کے نزدیک اور کوئی گنہ کبیرہ نہیں اگر چہ ابھی تک پہاڑی راجے اپنے مقرری دنوں میں بھینسوں کو تلوار سے کاٹتے ہیں اور جوالا مکھی اور دوسری کئی جگہوں پر دیویوں کو خوش کرنے کے لئے یہ کام ہوتے رہتے ہیں ۔ مگر کبھی تعصب کے پردوں سے اس طرف خیال نہیں آتا کہ یہ اسی ویدک حکم کے آثار باقیہ ہیں ۔ یجر ویدا دھیائ چو ہیں منتر ۲۷ میں صاف لکھا ہے کہ براسپتی کے لئے گائے کی قربانی کی جائے اور رگوید اشتکا ۲ ۔ ادھیا ۳ ۔ سوکت ۶ میں اس گوشت کے کھانے کی صریح اجازت ہے بلکہ رگوید منڈل ۶ سوکت ۱۶ میں بڑی محبت سے لکھا ہے کہ گائے کا گوشت سب سے عمدہ خوراک ہے ۔ پھر رگوید اشتک چارا دھیا ایک میں تذکرہ کے طور پر بیان کیا ہے کہ ایک مرتبہ تین سو بھینسوں کی سوختنی قربانی ہوئی اور حال میں جو ایک پنڈت صاحب کی طرف سے ایک کتاب کلکتہ میں چھپی ہے جس کی کا پیاں جابجا مشتہر ہوئی ہیں وہ نہ صرف جائز بلکہ بڑے زور سے یہ دعوی کرتے ہیں کہ پہلے زمانہ میں گائے کا گوشت بڑے شوق سے کھایا جاتا تھا اور عمدہ عمدہ چربی دار ٹکڑے برہمنوں کے نذر ہوتے تھے اور رگوید اشتک اول کی ایک شرقی کی شرح میں پروفیسر ولسن صاحب لکھتے ہیں کہ ایک بڑی محکم گواہی دید کی اس بات پر ہے کہ وید کے زمانہ میں عام طور پر گائے کا گوشت کھایا جاتا تھا اور جا بجا ہندوؤں کی دکانوں میں بکتا تھا ۔ اب انصاف کرنے کی جگہ ہے کہ جس گائے کے کھانے کے لئے یہ تاکیدیں ہیں اب اس کو حرام سمجھا جاتا ہے۔ کیا اس سے ثابت نہیں ہوتا کہ آریوں کو وید