شحنۂِ حق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 415 of 548

شحنۂِ حق — Page 415

روحانی خزائن جلد ۲ ۴۰۱ شحنه حق پیش ہوتے ہیں مگر حکام مجوز پر ہر گز یہ اعتراض نہیں ہوتا کہ تمہیں تو اردو کی ہی خبر نہیں تم فیصلہ کیا کرو گے کیونکہ جب بیانات فریقین اور گواہوں کی شہادت یا تحریری ثبوت اور ماتحت حکام کی رائیں صحیح طور پر انگریزی میں ترجمہ ہو چکیں پھر اردو کی کیا حاجت رہی ۔ سو ہم کہتے ہیں کہ اگر ایسا ہی سودائیوں کی طرح آریوں کے دل میں وہم بیٹھا ہوا ہے تو کیوں وہ بہ ثبت مواہیر اپنا نیا عقا ئد نامہ چھپوا نہیں دیتے جس میں یہ تفصیل لکھا جائے کہ ہم پہلے عقا ئدہ مشتہرہ سے دست بردار ہیں اور اب نئے عقیدے ہمارے یہ ہیں ۔ پھر دیکھیں کہ ان عقیدوں کی بھی کیسی خبر لی جاتی ہے۔ میں قطعاً و یقیناً کہتا ہوں کہ عام ہندوؤں کا ویدوید کرنا اسی زمانہ تک ہے کہ جب تک انہیں ویدوں کے مضامین کی خبر نہیں کیا خوب ہو کہ گورنمنٹ انگریزی عامہ خلائق کا دھوکا دور کرنے کے لئے ویدوں کا تحت اللفظ اردو تر جمہ ایک ایسی منتخب سوسائٹی سے کراوے جس میں آریوں کے لائق ممبر بھی شامل ہوں اور چند فاضل بر ہمو اور انگریز بھی اس کمیٹی میں داخل ہوں اور پھر وہ ترجمہ عام طور پر ہندوؤں وغیرہ میں تقسیم کیا جائے ۔ ہندوؤں کو ویدوں سے یہاں تک بے خبری ہے کہ گائے بیل کا نہ مارنا بھی ایک مذہبی عقیدہ سمجھا گیا ہے اور کھانا تو در کنار اس گوشت کا دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے حالانکہ منو شاستر جس پر پنڈت دیا نند بہت سا اپنی باتوں کا مدار رکھتے ہیں بآواز بلند کہہ رہا ہے کہ بیل کا گوشت کھانا نہ صرف جائز بلکہ بڑے ثواب کی بات ہے اور رگ بید اشتک اوّل میں لکھا ہے کہ جس کھال سے ہوم کے اعمال ادا ہوتے ہیں وہ ضرور گائے کی کھال چاہیے۔