شحنۂِ حق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 414 of 548

شحنۂِ حق — Page 414

روحانی خزائن جلد ۲ ۲۰۰ شحنه حق بڑے بڑے کمالات پیدا کئے اور جن لائق برہموؤں نے اس گم گشتہ زبان میں بڑی بڑی لیاقتیں پیدا کیں یہاں تک کہ ویدوں کے بھاش بنائے ان فاضل لوگوں کی رائے کو بھی ان حضرات نے قبول نہیں کیا ۔ آپ کو تو اُنہیں وید کا مکھی برابر بھی علم نہیں صرف دیا نندی خیالات پر گزارہ ہے مگر دوسروں کے سامنے باتیں بناتے ہیں ۔ ہر یک عاقل سمجھ سکتا ہے کہ کسی مذہب پر اعتراض کرنے کے لئے ان کے مسلمہ اصولوں کو معلوم کر لینا کافی ہے کیونکہ در حقیقت اصول ہی مرکز دائرہ مذہب ہوتے ہیں اور انہیں پر بحث ہوتی ہے ۔ اگر مسلمانوں کو بغیر سنسکرت پڑھنے کے ہندوؤں کے ساتھ بحث جائز نہیں تو پھر ہندوؤں کو بغیر عربی پڑھنے کے مسلمانوں پر کوئی اعتراض کرنا کب جائز ہے ۔ اندرمن کون سی عربی پڑھا ہوا ہے لیکھرام کو کیا ایک آیت پڑھنے کی تمیز ہے اور پھر یہ دونوں نرے کو دن اور عربی سے سراسر جاہل کیا استحقاق رکھتے ہیں کہ قرآنی تعلیم اور ۵۲) عقائد کا نکتہ چینی کے طور پر نام بھی لیں ۔ انہیں تو اپنے سنسکرت کی بھی خبر نہیں چہ جائیکہ عربی کے دو لفظ بھی جوڑ سکیں ۔ یا صحیح پڑھ سکیں ۔ اور دیانند تو اردو تھا تو پھر کیوں اس ۔ اس نے مسلمانوں کے ساتھ بخشیں کیں پڑھنے سے سے۔ بھی بے نصیب تھا اور بہت کچھ وید بھاش اور ستیارتھ پرکاش میں اپنی بد بودار جہالت کا گند چھوڑ گیا ۔ سو مسلمان اس طریق پر ہرگز اعتراض نہیں کریں گے کہ کسی کو عربی نہیں آتی بلکہ وہ دیکھیں گے کہ جس بات پر اعتراض کیا گیا ہے وہ درحقیقت ہمارا اصول ہے یا نہیں پھر جیسی صورت ہو ویسا عمل کریں گے ۔ پارلیمنٹ لنڈن میں صدہا اپیل ہندوستانی عدالتوں کے انگریزی میں