شحنۂِ حق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 410 of 548

شحنۂِ حق — Page 410

روحانی خزائن جلد ۲ ۳۹۶ شحنه حق یعنی سُور بن کر اور خوکوں کے موافق غذا ئیں لطیف کھا کر اپنے درشن کرنے والوں کو خوش کر دیا ۔ تعجب کہ جن کے پرمیشر کا یہ حال ہو وہ قرآن شریف پر اعتراض کریں کہ اس میں ایسی کوئی آیت نہیں کہ خدا تعالیٰ کو جسم و جسمانی (۵۳) ہونے سے پاک قرار دیتی ہو حالانکہ قرآن شریف کی پہلی آیت ہی یہی ہے کہ خدا تعالیٰ جسم اور جسمانی ہونے سے پاک ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ یعنی خدا ہی کو سب تعریف اور حمد اور مدح ہے وہ کیسا ہے! تمام عالموں کا رب ہے جس کی ربوبیت ہر یک عالم کے شامل حال ہے ۔ اب ظاہر ہے کہ عالم ان چیزوں کا نام ہے جو معلوم الحدود ہونے کی وجہ سے ایک صانع محمد و پر دلالت کریں اور لفظ عالم کا اسی معلوم الحدود ہونے سے مشتق کیا گیا ہے اور جو چیز معلوم الحدود ہے وہ یا تو جسم اور جسمانی ہوگی اور یا روحانی طور پر کسی حد تک اپنی طاقت رکھتی ہوگی ۔ جیسی انسان کی روح ۔ گھوڑے کی روح ۔ گدھے کی روح وغیرہ وغیرہ حدود مقررہ تک طاقتیں رکھتی ہیں ۔ پس یہ سب عالم میں داخل ہیں اور وہ جو ان سب کا پیدا کنندہ اور ان سے برتر ہے وہ خدا ہے ۔ اب غور سے دیکھنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ نے اس آیت میں نہ صرف یہ ظاہر کیا کہ وہ جسم اور جسمانی ہونے سے برتر ہے بلکہ یہ بھی ثابت کر دیا کہ یہ تمام چیزیں معلوم الحدود ہونے کی وجہ سے ایک خالق کو چاہتی ہیں جو حدود اور قیود سے پاک ہے ۔ اب ناظرین سمجھ سکتے ہیں کہ آریوں کی عقل کو کس قدر تعصب نے مار لیا ہے کہ جو مضمون قرآن شریف کی پہلی آیت سے ہی نکلتا ہے اس پر بھی نظر نہیں کی اور علمیت کا یہ حال کہ یہ بھی خبر نہیں کہ عالم کسے کہتے ہیں حالانکہ عالم ایک الفاتحه: ۲