شحنۂِ حق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 409 of 548

شحنۂِ حق — Page 409

روحانی خزائن جلد ۲ ۳۹۵ شحبه حق ستیارتھ پرکاش کے صفحہ ۲۶۳ میں پنڈت دیا نندا قرار کر چکے ہیں کہ روح ایک دقیق جسم ہے جو بدن سے نکلنے کے بعد شبنم کی طرح زمین پر گرتی ہے اور پھر ٹکڑے ٹکڑے ہو کر کسی گھاس پات وغیرہ پر پھیل جاتی ہے۔ اب ہمارا اعتراض یہ ہے کہ اگر روح جسم و جسمانی چیز ہے تو اس سے لازم آ گیا کہ بموجب ہدایت وید پر میشر بھی ضرور جسم و جسمانی ہوگا ۔ اور وہ بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو کر زمین پر گرنے اور کھائے جانے کے قابل ہے شائد اسی خاصیت کے رو سے اندر پر میشر کی روح زمین پر گر کر کوسیکارشی کی جورو کے پیٹ میں جا ٹھہری تھی جس کی نسبت رگوید اشتک اول میں صاف صاف یہی بیان درج ہے۔ اب اے آریو! مبارک باد کہ تمہارے پر میشر کی ساری حقیقت کھل گئی اور خود دیا نند کی گواہی سے ثابت ہو گیا کہ تمہارا پر میشر ایک دقیق جسم ہے جو دوسری روحوں کی طرح زمین پر گرتا اور ترکاریوں کی طرح کھایا جاتا ہے تب ہی تو وہ کبھی رام چندر بنا اور کبھی کرشن اور کبھی مچھے اور ایک مرتبہ تو خوک بقیه حاشیه ادھیائے چالیس منتر سترہ ۔ پھر رگ وید بھاگ ۲ ۔ سکت ۹۰ ۔ منڈل ۱۰ - منتر اول میں لکھا ہے کہ پر میشر کی ہزار آنکھیں اور ہزار سر اور ہزار پاؤں ہیں۔ دوسرے منتر میں ہے کہ سب روحیں اسی کی روح ہیں۔ اور جو کچھ ہے وہی ہے اور تھا بھی وہی۔اور منتر چہارم میں ہے کہ زمین کی تمام مخلوقات اس کا چوتھا حصہ ہے اور تین حصے آسمان پر ہیں یہ وہ شرتیاں ہیں جن سے ویدانت کے مسائل نکالے گئے ہیں۔ اب پنڈت دیا نند کے چیلے خواہ ان شرتیوں کے معنے کسی طور پر کریں مگر بہر حال یہ تو خود دیانند کے اقرار سے اور نیز ان شرتیوں سے ثابت ہے کہ پر میشر کی روح اور دوسری روحیں متحد الحقیقت ہیں۔ پس جبکہ دوسری روحیں وید کے رو سے ایک جسم دقیق ہیں تو ایسا ہی پر میشر کی روح بھی ایک جسم دقیق ٹھہری۔ منہ۔