شحنۂِ حق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 408 of 548

شحنۂِ حق — Page 408

روحانی خزائن جلد ۲ ۳۹۴ شحنه حق مگر یہ پاک مسئلہ ویدوں کا ابھی تک ان کو بھی نہ سوجھا تھا کہ ذرہ ذرہ اپنی ہستی میں خدا سے بے نیاز اور قدامت میں اس سے برابر اور باعتبار وجودی انتشار کے اس سے بڑھ کر ہے ۔ یہ ویدک گیان دیانند ہی کے حصہ میں تھا ۔ دیکھو اب اس وید کے اصول میں کس قدر خرابیاں ہیں ۔ اول تو جب پر میشر ہر یک چیز کا سہارا اور ہر یک ظہور کا مظہر اصلی نہ ہوا تو پھر کا ہے کا پر میشر ہوا۔ صرف کروڑ ہا قدیم وجودوں میں سے وہ بھی ایک وجود ٹھہرا جوان قدیمی باشندوں میں سے صرف ایک باشندہ ہے۔ دوسری بڑی بھاری یہ خرابی کہ وجودی انتشار کے لحاظ سے وہ بے شمار روحوں کے مقابل پر ایک ذرہ کی طرح ٹھہرا کیونکہ بلا شبہ د و قدیم الوجود کا وجودی انتشار ایک قدیم سے بہت زیادہ ہوتا ہے پس جبکہ کروڑ ہا روحیں جن کا شمار اسی خالق کو معلوم ہے وید کے رو سے قدیم اور واجب الوجود کٹھہریں تو پر میشر بیچارہ کا وجود ان بے شمار قدیم وجودوں کے آگے کیا ہستی اور حقیقت رکھتا ہے ۔ بلا شبہ بہت سے قدیم وجودوں کا وجودی (۵۲) انتشار ایک وجود سے اس قدر زیادہ ہوگا کہ اس کو کچھ بھی ان سے نسبت نہیں ہو گی ۔ تیسری بڑی شنیع خرابی یہ ہے کہ جب پر میشر کی روح اور دوسری تمام روحیں قدامت اور واجب الوجود ہونے میں ایک ہی خصلت اور سیرت اور خاصیت رکھتے ہیں تو وہ خواہ نخواہ متحد الحقیقت بھی ہوں گے لیکن ☆ ویدوں میں اس بات کا بہت تذکرہ ہے کہ پر میشر کی روح اور دوسری چیزوں کی روح متحد الحقیقت ہیں ۔ چناچہ میجر وید میں ایک شرقی یہ ہے منش کی آتما فٹ نوٹ (روح) کہتی ہے کہ وہ پر میشر جو سورج میں ہے میں ہی ہوں ۔ دیکھو یجز دید