شحنۂِ حق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 404 of 548

شحنۂِ حق — Page 404

روحانی خزائن جلد ۲ ۳۹۰ شحنه حق ﴿۲۹﴾ اور اگر یہ کہو کہ منوجی ویدوں کو کسی قدر پرانا ہی ٹھہراتے ہیں تو اس کا جواب ۴۹ یہ ہے کہ بے دلیل گواہی منو کی ہو یا غیر منو کی وہ قابل اعتبار نہیں اور پھر سمجھنا چاہئے کہ بدھ جی کے مقابل پر منوجی کی حیثیت کیا ہے کیا کچھ بھی شرم نہیں آتی ۔ واضح رہے کہ دیانند نے ستیارتھ پرکاش وغیرہ رسائل میں قدامت ویدوں کے لئے بہت کچھ ہاتھ پاؤں مارے آخر ہر طرف سے نومید ہو کر برہمنوں کا روزنامچہ د دلیل ٹھہرایا مگر یاد رہے کہ یہ دلیل بالکل پیچ اور نکمی ہے ۔ یہ نہایت مشہور واقعہ اور سب کا مانا ہوا تسلیم کیا ہوا ہے کہ اصلی روز نامچہ ( تهتی پتر ) راجہ بھوج کے زمانہ سے چارسو برس پہلے گم ہو گیا تھا یعنی بدھ مذہب کے عروج کے زمانہ میں اور یہ جواب برہمنوں کے ہاتھ میں ہے یہ تو ایک جعلی چیز ہے جو سرا سر نفرت کے لائق اور ذرہ قابل اعتبار نہیں اس میں خلاف عقل اور بیہودہ سوانح تو بہت لکھے مگر سکندر اعظم کا ذکر کہاں ہے جس کا ذکر کرنا روزنامہ کی حیثیت سے بہت ضروری تھا ایسا ہی پرانے سکوں کی شہادت سے ثابت ہوتا ہے کہ ڈیڑھ سو سال تک یونانیوں کی بادشاہی ہندوستان میں بقیه حاشیه چنانچہ تشریح اس کی وہ یوں لکھتے ہیں کہ ہر بید میں علم ہیئت کا ایک ایک رسالہ اس غرض سے لگا ہوا ہے کہ پتری کی ترتیب معلوم ہووے۔ اور اس سے فرائض منصبی کے اوقات دریافت ہو جایا کریں۔ پس وہ صریح اور قطعی دلیل جس پر انہوں ۔ نے اپنی مذکورہ بالا رائے قائم کی ہے یہ ہے کہ جو مقام راس سرطان اور راس جدی کا اس رسالہ میں قرار دیا ہے وہ وہی مقام ہے جو چودھویں صدی قبل از سنہ عیسوی میں ان دونوں راسوں کا تھا۔ پس کچھ شک نہیں کہ بیدوں کی تالیف اسی زمانہ میں ہوئی تھی۔ (ماخوذ از تاریخ ہند مؤلفه الفنسٹن صاحب )