شحنۂِ حق — Page 403
روحانی خزائن جلد ۲ ۳۸۹ شحنه حق زیادہ وقعت نہیں رکھتے وہ اپنے بدھ شاستر (ادھیائے ۲ سوتر ۱) میں فرماتے ہیں کہ وید پرمیشر کا کلام نہیں ہو سکتے کیونکہ ان کے زمانہ کی تاریخ جو بیان کی گئی ہے وہ با لکل خلاف واقع اور جھوٹ ہے اور نیز ان میں کلام الہی ہونے کا کوئی نشان پایا نہیں جاتا اور ان کے مطالب و مضامین خلاف عقل ہیں ۔ اب دیکھنا چاہیے کہ بدھ جی جیسے نامی پنڈت سے بڑھ کر جن کی بزرگی کے پچاس کروڑ کے نزدیک لوگ قائل ہورہے ہیں اور کون سی شہادت ہے اور اگر ہے تو وہ پیش کرنی چاہیے۔ ویدوں کو ابتدا سے کسی آریہ دیس کے دانا نے تسلیم نہیں کیا اور ہر چند ظالم برہمنوں نے اس مطلب کے حصول کے لئے ہزار ہا خون بھی کئے (جیسا کہ شاستروں سے ظاہر ہے ) لیکن ان نیک خیال ہندوؤں نے بڑی استقامت سے جانیں دیں مگر وید کی مشر کا نہ تعلیموں کو قبول نہ کیا۔ صرف ویدوں کے نہ ماننے کی وجہ سے ہزاروں محققوں اور عارفوں اور دانشمند آریوں کے سر کاٹے گئے اور شریر برہمنوں نے ایسے ایسے نیک دل اور پاک خیال لوگوں کو قتل کیا جن کی اس گروہ میں نظیر ملنا مشکل ہے اگر ویدوں میں کچھ سچائی ہوتی تو شریف آریہ جو دانشمند اور فلاسفر تھے کیوں ویدوں سے اس قدر بیزار ہو جاتے کہ ایک ایک ہو کر مارے گئے مگر ویدوں کو قبول نہ کیا ۔ اگر ویدوں کی کسی ایک آدھ شرتی سے یہ مضمون بھی نکلتا ہو کہ وہ پرانی ہیں تو قابل تسلیم نہیں کیونکہ دعوی بلا دلیل ہے جس کو دوسری شرتیاں خو درد کرتی ہیں ۔ فٹ نوٹ یورپ کے محققوں نے بڑی چھان بین کے بعد ویدوں کی تالیف کا زمانہ چودھویں صدی (۲۸ قبل از سنہ عیسوی قرار دیا ہے اور ان کی اس رائے کا صحیح ہونا بہت پختگی کے ساتھ ایک مقام سے جس کو سرایڈورڈ کا لبروک صاحب نے بیدوں میں دریافت کیا ہے صحیح ٹھہرتا ہے